خطبات محمود (جلد 21) — Page 444
1940ء 443 خطبات محمود الله کی طرف لے جا رہا ہوں۔ آخر وہ اس گھر میں پہنچے جہاں رسول کریم صلی علی رام صلی اعلی مقیم تھے اور جو تبلیغ اسلام کا ان دنوں مرکز تھا۔ ابوذر نے اپنے آنے کا سارا قصہ بیان کیا اور کہا کہ آپ اپنا دعوی بتائیں۔ رسول کریم صلی العلیم نے مختصراً اپنا دعویٰ بیان کیا اور قرآن کریم کی چند آیات سنائیں۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ میری تسلی ہو گئی ہے اور یہ کہتے ہوئے وہ مسلمان ہو گئے۔ پھر انہوں نے عرض کیا کہ میرے علاقہ میں کوئی بھی مسلمان نہیں۔ یہاں تو پھر بھی دس ہیں مسلمان ہیں مگر وہ تو بالکل بدوی ہیں۔ انہیں جب یہ معلوم ہو گا کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے تو وہ ضرور شور مچائیں گے ۔ اس لئے اگر اجازت ہو تو کچھ عرصہ کے لئے میں اپنے اسلام کو چھپا لوں۔ رسول کریم صلی علی رم کریم صلی الم نے فرمایا اچھا اجازت ہے۔ بیعت بیعت کرنے اور اسلام کو اسلام کو چھپانے کی س اجازت لے کر وہ باہر آئے اور خانہ کعبہ کے طواف کے لئے گئے۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ صد سر بڑے صحن کعبہ میں رؤسائے قریش کی ایک مجلس لگی ہوئی ہے اور رسول کریم صلی العلم کو بڑے بڑ تبرے اور گالیاں دی جا رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ یہ بڑا عقلمند پیدا ہو گیا ہے جو کہتا ہے کہ ہمارے معبود جھوٹے ہیں۔ گویا ہمارے باپ دادے سب جھوٹے تھے اور یہ شخص سچا ہے۔ جب ان کے کان میں یہ آوازیں پڑیں تو باوجود اس کے کہ رسول کریم صلی العلیم سے وہ یہ اجازت لے کر آئے تھے کہ میں اپنے قبولِ اسلام کا اعلان نہیں کروں گا بلکہ اس بات کو چھپائے رکھوں گا تا کہ لوگ مخالفت نہ کریں۔ جب انہوں نے اسلام اور رسول کریم صلی علیم کی توہین ہوتی دیکھی تو ان کی برداشت کی طاقت جاتی رہی اور انہوں نے کھڑے ہو کر کہا کہ اَشْهَدُ أَنْ لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُ سوله کفار یہ سنتے ہی آپے سے باہر ہو گئے انہوں نے کہا کہ یہ کیسی خطرناک گستاخی ہے کہ عین اس وقت جب ہم تردید کر رہے ہیں یہ باہر کا رہنے والا ہمارے خلاف کھڑا ہو گیا اور اس نے ہمارے شہر میں فساد پیدا کرنا چاہا ہے۔ اس پر کچھ نوجوان کھڑے ہو گئے اور انہوں نے انہیں پکڑ کر خوب مارا۔ وہ ابھی مار ہی رہے تھے کہ حضرت عباسؓ آگئے۔ حضرت عباس ابھی اسلام نہیں لائے۔ نہیں لائے تھے اور ان کی عمر ابھی چھوٹی ہی تھی۔ گورسول کریم صلی الم سے ایک سال بڑے تھے یعنی رسول کریم صلی اللی ایم کی عمر اس وقت 42 سال تھی اور آپ کی 43 سال مگر ان کی عقل کا سکہ لوگوں کے قلوب پر بیٹھا ہوا تھا اور مکہ کے اور