خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 442

1940ء 441 خطبات محمود الله س کہ اول تو تمہارا یہی فرض ہے کہ اس سے ملنے کے لئے نہ جاؤ لیکن چونکہ اس بات کا امکان ہے کہ وہ خود تم سے باتیں کرنے لگ جائے اس لئے ہم نے تمہارے کانوں میں روئی ڈال دی ہے کہ تمہارے کانوں میں اس کی باتیں نہ پڑیں۔ ورنہ تمہارا دین خراب ہو جائے گا اور تم بھی اسی کی طرح گمراہ ہو جاؤ گے۔ بھائی کے دل میں چونکہ وہ نور نہیں تھا جو ابوذر کے دل میں تھا اس لئے وہ مکہ میں آیا اور پھر پھرا کر واپس ۔ واپس چلا گیا۔ ابوذر نے اس سے ! سے پوچھا کہ بتاؤ اس مدعی نبوت سے ملے تھے۔ وہ کہنے لگا بھئی وہ تو پاگل ہے اس کا کیا پوچھتے ہو۔ اسی طرح کوئی اسے شرارتی کہتا ہے اور کوئی دکاندار ۔ ابوذر کہنے لگے کہ کیا تم خود اس کے پاس گئے تھے۔ وہ کہنے لگا میں تو گیا ہی نہیں۔ جاتے ہی مجھے پتہ لگ گیا تھا کہ وہ پاگل ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی یہ باتیں تو ہمیں یہاں بھی پہنچ گئی تھیں۔ تمہیں خود جانا چاہیئے تھا اور اپنے کانوں سے اس کی باتیں سننی چاہئے تھیں مگر خیر میں اب خود جاتا ہوں۔ چنانچہ وہ تیار ہوئے اور مکہ میں پہنچ گئے۔ جب قریش مکہ کو ان کی آمد کا علم ہوا تو وہ جمگھٹا کر کے ان کے پاس پہنچے اور رسول کریم صلی علیم کے خلاف انہوں نے آپ کے کان بھرنے شروع کر دیئے۔ کسی نے کہا پاگل ہے، کسی نے کہا دکاندار ہے، کسی نے کہا ہمارے معبودوں کی طرف سے اس پر لعنت پڑ گئی ہے۔ غرض کئی قسم کی باتیں لوگ کرتے رہے۔ آخر ان کے کانوں میں بھی انہوں نے روئی ڈال دی اور کہا کہ اس کی باتیں نہ سننا۔ انہوں نے روئی ڈلوا لی اور خیال کیا کہ مجھے خواہ مخواہ اس بات پر ان سے جھگڑنے کی کیا ضرورت ہے مگر جب وہ چلے گئے تو انہوں نے روئی نکال کر پھینک دی اور فیصلہ کیا کہ وہ خود تمام حالات معلوم کریں گے مگر اس سے انہیں اتنی بات ضرور معلوم ہو گئی کہ سارا مکہ اس شخص کا دشمن ہے۔ اگر میں نے کسی سے کوئی بات پوچھی تو ممکن ہے وہ غلط جواب دے۔ اس لئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ میں پوچھوں گا کسی سے نہیں بلکہ آپ ہی تمام حال دریافت کروں گا۔ چنانچہ وہ سارا دن چکر لگاتے رہے۔ کبھی پھرتے پھراتے ایک طرف نکل جاتے اور کبھی دوسری طرف اور انہوں نے اندازہ لگا لیا کہ ہر انسان ڈرتا ہے آپ کا ذکر کرنے سے۔ اور ہر انسان گھبراتا ہے آپ کا نام زبان پر لانے سے۔خانہ کعبہ میں آنا تو آپ کے لئے ممنوع تھا ہی۔ اس لئے یہ صورت بھی نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ خانہ کعبہ میں رسول کریم صلی اللی ام