خطبات محمود (جلد 21) — Page 415
$1940 414 خطبات محمود فرمایا کرتے تھے کہ بعض لوگ ہمیں غصہ سے قُلْ اَعُوذ سے ملا کہہ دیا کرتے ہیں تو اگر ان میں سے کوئی خلیفہ ہو جاتا تو انگریزی دان طبقہ پھر بھی یہ خیال کر سکتا تھا کہ ممکن ہے جماعت کی ترقی انہی کی وجہ سے ہو مگر اللہ تعالیٰ نے اس الزام کو دور کرنے کے لئے کہ یہ سلسلہ انسانوں پر چل رہا ہے اس انسان کو خلافت کے لئے چنا جس کے متعلق یہ کہا جاتا تھا کہ وہ نالائق ہے ، ناتجربہ کار ہے، کم علم ہے اور وہ جماعت کو تباہ کر دے گا تا دنیا پر یہ ظاہر کرے کہ یہ خدا کا سلسلہ ہے کسی انسان کا قائم کر دہ سلسلہ نہیں۔بے شک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا تعالیٰ کے مقرب تھے مگر اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ سلسلہ ان کا بھی نہیں بلکہ میرا تھا اور بے شک حضرت مولوی نور الدین صاحب ایک بہت بڑے عالم تھے مگر ان کا علم بھی میرے فضل کا نتیجہ تھا اور سلسلہ ان کا نہیں بلکہ میرا تھا اور اس کے بعد خدا نے اس انسان کو خلافت کے لئے بچنا جس کے متعلق دنیا یہ حقارت سے کہتی تھی کہ وہ نہ ظاہری علوم سے آگاہ ہے نہ باطنی علوم جانتا ہے ، نہ اس کی صحت اچھی ہے نہ اسے کوئی رعب اور دبدبہ حاصل ہے اور نہ ہی کسی اور رنگ میں وہ لوگوں میں مشہور ہے اور اس طرح خدا نے ظاہر کر دیا کہ اس سلسلہ کو ترقی دینا میرا کام ہے اور میں اگر چاہوں تو مٹی سے بھی بڑے بڑے کام لے سکتا ہوں۔تو اللہ تعالیٰ کے قائم کر دہ سلسلے خدائی مدد پر چلتے ہیں کسی انسان کی وجہ سے نہیں چلتے اور اگر ہماری جماعت کسی وقت یہ سمجھ لے کہ فلاں شخص کے بیمار ہونے یا چلے جانے یا وفات پا جانے سے سلسلہ کے کام میں خرابی پیدا ہو جائے گی تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اس نے تو کل کو چھوڑ دیا۔جب تک ہماری جماعت میں یہ تو کل رہے گا ممکن ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نئے سے نئے آدمی کام کرنے والے پیدا نہ کرے۔آخر ہماری جماعت میں لوگ بیمار بھی ہوتے ہیں اور مر بھی جاتے ہیں مگر کیا کبھی بھی ہمارے کاموں میں رخنہ پڑا؟ ہم نے تو دیکھا ہے کہ جب بھی ایسا ہو تا ہے اللہ تعالیٰ فوراً ایسے آدمی کھڑے کر دیتا ہے جو ان کے کام کو سنبھال لیتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول کو علمی لحاظ سے دنیا میں خاص شہرت حاصل تھی۔اسی طرح مولوی سید محمد احسن صاحب بھی بہت مشہور تھے۔مولوی سید سرور شاہ صاحب اور قاضی سید امیر حسین صاحب بھی بڑے پایہ کے عالم تھے گو باہر ان کی علمی شہرت نہیں تھی مگر