خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 414

$1940 413 خطبات محمود زیادہ اللہ تعالیٰ کے مقرب تھے۔ان کا قرب رسول کریم صلی این وام کے قرب کے مقابلہ میں بالکل کم ہے اور ان کی قربانیاں رسول کریم صلی علیم کی قربانیوں کے مقابلہ میں بالکل بیچ ہیں مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ نے یہ بتانے کے لئے کہ یہ دین میرا ہے کسی انسان کا قائم کردہ نہیں ان حقیر کوششوں میں برکت زیادہ ڈال دی۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوئے تو عام طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اب سلسلہ تباہ ہو جائے گا اور دشمن خوش تھا کہ چندہ آنا اب بند ہو جائے گا اور جماعت کی ترقی رُک جائے گی مگر جب لوگوں نے ایک دو سال کے بعد دیکھا کہ جماعت افراد کی تعداد کے لحاظ سے بھی بڑھ گئی ہے ، قربانی کے لحاظ سے بڑھ گئی ہے اور اشاعت دین کے لحاظ سے بھی بڑھ گئی ہے تو انہوں نے یہ نئی بات بنائی کہ اصل میں مولوی نور الدین صاحب جماعت میں ایک بہت بڑے عالم ہیں اور سلسلہ کی تمام ترقی کا انحصار انہی پر ہے۔مرزا صاحب کی زندگی میں تمام کام مولوی صاحب ہی کرتے تھے۔گو ظاہر میں مرزا صاحب کا نام رہتا تھا۔چنانچہ کئی مولوی طرز کے لوگ جو ظاہری علوم کی قدر زیادہ کیا کرتے ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ہی کہا کرتے تھے کہ اس سلسلہ کو مولوی نور الدین صاحب چلا رہے ہیں۔انہوں نے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد دیکھا کہ مولوی صاحب کے زمانہ میں سلسلہ پہلے سے بھی زیادہ ترقی کر رہا ہے تو انہوں نے خوش ہو کر کہنا شروع کر دیا کہ ہم نہ کہتے تھے تمام کام مولوی نور الدین صاحب کا ہے۔غرض حضرت خلیفہ اول کے وقت سلسلہ پہلے سے بھی زیادہ ترقی کر گیا اور مخالفوں نے یہ کہہ کر اپنے دل کو تسلی دینی شروع کر دی کہ یہ تمام کارروائی نور الدین کی ہے اس کی وفات کے بعد یہ سلسلہ تباہ ہو جائے گا۔حضرت خلیفۂ اول جب وفات پاگئے تو ان کے بعد اگر جماعت کے وہ مشہور لوگ جو اثر اور رسوخ رکھتے تھے جیسے خواجہ کمال الدین صاحب یا ریویو آف ریلیجنز کی ایڈیٹری کے لحاظ سے مولوی محمد علی صاحب خلیفہ منتخب ہو جاتے تو انگریزی دان طبقہ یہ خیال کرتا کہ اب جماعت کی ترقی کی وجہ یہ ہے کہ کوئی انگریزی میں دسترس رکھنے والا خلیفہ ہو گیا ہے کیونکہ یہ مغربی علوم کے غلبہ کا ہی زمانہ ہے مولویوں اور ملانوں سے یہ کام نہیں ہو سکتا۔جیسے حضرت خلیفہ اول بعض دفعہ