خطبات محمود (جلد 21) — Page 410
1940ء 409 خطبات محمود انہی ۔ روں میں سے ہے جن کو جماعت نے اٹھانا ہے اور یہ اسی طرح دور ہو وسکتا ہے کہ یا تو اس کام کو بند کر دیا جائے اور یا پھر چندہ میں فراخ دلی سے حصہ لیا جائے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ جلسہ سالانہ کو کسی صورت میں بھی بند نہیں کیا جا سکتا۔ پس جب اسے بند نہیں کیا جا سکتا تو یہی صورت رہ جاتی ہے کہ ہم اس بوجھ کو اپنی طاقت کے مطابق اٹھا لیں۔ اس کے ساتھ ہی میں بیرونی جماعتوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس چندہ کی طرف خاص طور پر توجہ کریں۔ جس طرح تحریک جدید کے چندہ کے متعلق بار بار تحریکات ہوتی رہتی ہیں اسی طرح اگر صدر انجمن احمد یہ کی طرف سے متواتر ہفتہ میں دو تین دفعہ ایسے اعلانات ہوتے رہیں کہ فلاں فلاں جماعت نے جلسہ سالانہ کا چندہ دے دیا ہے اور فلاں فلاں جماعت نے نہیں دیا یا بہت کم دیا ہے ، اسی طرح چندہ میں نمایاں طور پر حصہ لینے والی جماعتوں کے نام شائع ہوتے رہیں تو میں سمجھتا ہوں جو جماعتیں سست ہیں وہ ہوشیار ہو جائیں اور جو جماعتیں پست تو ہیں مگر ان کے سیکرٹری یا پریذیڈنٹ سست ہیں ان کے سیکر ٹری اور پریذیڈنٹ ہوشیار ہو جائیں۔ آخر وجہ کیا ہے کہ جلسہ سالانہ کے اخراجات کے لئے ایک آدھ اعلان کافی سمجھ لیا جاتا ہے اور اس کے متعلق بار بار تحریکات نہیں کی جاتیں۔ بیس پچیس ہزار کا بار معمولی نہیں ہوتا۔ جماعت کو خاص طور پر قربانیاں کر کے یہ بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے اور مزید بر آں انہیں اپنے کرایہ کے لئے بھی کچھ روپیہ بچانا پڑتا ہے۔ اس لئے جماعتوں کو صرف ایک چٹھی لکھ دینا کافی نہیں ہو سکتا اس کے لئے تو اس طرح شور ڈال دینا چاہیے کہ جماعت کے ہر فرد کو یہ احساس ہو جائے کہ مجھے اپنے فرض کی ادائیگی کا فکر کرنا چاہیئے۔ میں نے تو کبھی نہیں دیکھا کہ صدر انجمن احمد یہ نے اس طرح چندہ جلسہ سالانہ کے حصول کے لئے جد وجہد کی ہو۔ بالعموم صرف ایک دو چٹھیاں لکھنے پر کفایت کرلی جاتی ہے اور سمجھ لیا جاتا ہے کہ آپ ہی آپ چندہ آجائے گا حالانکہ یہ سال کے آخری دن ہوتے ہیں اور ان دنوں میں ایک طرف لوگوں نے جلسہ سالانہ کے لئے قادیان آنا ہوتا ہے اور اس کے لئے انہیں اخراجات کی فکر ہوتی ہے۔ دوسری طرف اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے انہیں یہ فکر ہوتا ہے کہ اب سردی آگئی ہے ان کے لئے گرم کپڑوں کا انتظام کرنا چاہیئے۔ تیسری طرف ان کے سامنے چندہ جلسہ سالانہ کی تحریک ہوتی ہے۔ چوتھی طرف ماہوار چندوں میں با قاعدگی