خطبات محمود (جلد 21) — Page 409
$1940 408 خطبات محمود ہم نے غور کیا تو ہمیں معلوم ہوا کہ اگر ایسا کیا جائے تو مہمان نوازی نہیں ہو سکے گی کیونکہ لازماً کھانے کی تیاری وغیرہ کے لئے عورتوں کو اپنے گھروں میں رہنا پڑے گا اور جب وہ اپنے گھروں میں رہیں گی تو جلسہ سالانہ پر آنے والی عورتوں کو کھانا کون کھلائے گا، ان کی نگرانی کون کرے گا اور جلسے کا انتظام کون کرے گا۔اسی طرح اگر مرد گھر کے کاموں سے پوری طرح فارغ نہ ہوں تو وہ بھی جلسہ سالانہ کے کاموں میں حصہ نہیں لے سکتے۔صرف ایسے ہی لوگ اس بوجھ کو اٹھا سکتے ہیں جن کے گھروں میں ملازم ہوتے ہیں مثلاً ہمارے گھروں میں ناشتہ وغیرہ گھر سے ہی مہمانوں کو دے دیا جاتا ہے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ ہماری عور تیں زیادہ کام کرتی ہیں بلکہ وہ گھر کا کام نوکروں کے سپر د کر کے خود جلسہ سالانہ کے کاموں میں مصروف ہو جاتی ہیں اور اس طرح ہمارے گھروں میں ان دنوں میں بھی کھانا تیار ہوتا ہے مگر وہ ہزاروں لوگ جن کے گھروں میں کوئی نوکر نہیں ہوتے اگر ان کی عورتیں گھر کا کام کریں گی تو جلسہ سالانہ کا کام نہیں کر سکیں گی اور اگر جلسہ سالانہ کا کام کریں گی تو گھر کا کام نہیں کر سکیں گی۔غرض عورتیں چونکہ ان دنوں اپنے گھر کا کام نہیں کر سکتیں اس لئے ان کے بچے، خاوند اور دیگر رشتہ دار اپنا کھانا نگر سے منگواتے ہیں اور خود جلسہ کے کاموں میں مصروف رہتے ہیں۔اور گو ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو کوئی کام نہیں کرتے مگر ایسے کمزوروں یا منافقوں کا وجو د ہر جماعت میں پایا جاتا ہے۔ور نہ جس طرح مخلص مرد ان دنوں کام میں مشغول ہوتے ہیں اسی طرح مخلص عور تیں کام میں مشغول ہوتی ہیں اگر انہیں کام سے فارغ کر دیا جائے تو جلسہ سالانہ کا انتظام نہیں ہو سکتا اور اگر انہیں کام پر رکھا جائے تو سلسلہ پر ان کے کھانے کا بوجھ پڑنا یقینی بات ہے۔لیکن ایک چیز ایسی ہے جسے اگر قادیان کے رہنے والے اختیار کر لیں تو باوجو د سلسلہ پر ان کے کھانے کا بار ہونے کے وہ بوجھ زیادہ تکلیف دہ صورت اختیار نہیں کر سکتا اور وہ یہ کہ جتنا بوجھ ان کی وجہ سے سلسلہ پر پڑتا ہے اُتنا ہی بوجھ وہ جلسہ سالانہ کے چندہ میں حصہ لے کر اٹھا لیں تب یقیناوہ روک جو آمد کی کمی کی وجہ سے پید اہو جاتی ہے دور ہو جائے۔پس سب سے پہلے میں قادیان کی جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس چندہ میں زیادہ حصہ لے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جماعت پر پہلے ہی کئی قسم کے بار ہیں مگر یہ بار بھی