خطبات محمود (جلد 21) — Page 345
$1940 344 خطبات محمود الله ہے کہ مجھ پر کوئی شخص الزام عائد نہیں کر سکتا۔اس کے مقابلہ میں رسول کریم صلی ایم کی زندگی پبلک زندگی تھی اور آپ اس بات کا حق رکھتے تھے کہ لوگوں کو چیلنج کریں کہ تم میں سے کوئی مجھ پر الزام عائد نہیں کر سکتا۔تو یہ غلو ہے جس سے عزت نہیں بڑھتی بلکہ دشمن کو خواہ مخواہ ہنسی کا موقع ملتا ہے۔اگر کوئی عائشہ بننا چاہتی ہے تو وہ عائشہ کی طرح ہمیں آدھا دین سکھا دے۔جس دن ہماری جماعت میں کوئی ایسی عورت پیدا ہو جائے گی جو ہم کو اسی طرح پڑھانے کے لئے تیار ہو جائے گی جس طرح عائشہ نے ابو بکر کو پڑھایا، جس طرح عائشہ نے عمر کو پڑھایا، جس طرح عائشہ نے عثمان کو پڑھایا، جس طرح عائشہ نے علی کو پڑھایا اور جب کوئی ایسی عورت پیدا ہو جائے گی جو خود مجھے آکر دین سکھا سکے گی اس دن میں اس کے متعلق کہہ دوں گا کہ وہ عائشہ ہے۔آخر جب قرآن کہتا ہے کہ اے لوگو ! تم محمد علی ایم کی نقل کرو یہاں تک کہ تم محمد صلی للی نام کا کامل نمونہ بن جاؤ تو ہمارے لئے اس میں کون سی حرج کی بات ہے کہ ہم اپنی عورتوں سے کہیں کہ تم عائشہ بنو اور جب کوئی عائشہ بن کر دکھا دے تو اسے کہہ دیں کہ وہ عائشہ کی طرح ہو گئی۔لیکن دین کے متعلق تو کوئی واقفیت نہ ہو اور محض ایک بڑھے سے شادی کر کے اپنے آپ کو عائشہ قرار دے لیا جائے یہ دین سے تمسخر اور استہزاء ہے۔پھر بڑھے سے کسی نوجوان لڑکی کا شادی کرنا کوئی ایسی بات بھی نہیں جس کی دنیا میں مثال نہ ملتی ہو۔موجودہ زمانہ میں ہی دنیا میں ہزاروں ایسی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں اور گذشتہ تیرہ سو سال میں تو اس کی لاکھوں مثالیں مل سکتی ہیں۔قریب کی مثالوں میں سے مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کی مثال ہے۔ان کے متعلق یہ بات ثابت ہے کہ وہ بڑھاپے تک شادیاں کرتے چلے گئے تھے یہاں تک کہ حضرت خلیفہ اول ہنس کر فرمایا کرتے تھے کہ وفات سے تین چار دن پہلے انہوں نے اپنے بعض شاگردوں سے کہا کہ میں چاہتا ہوں تم میری کوئی اور شادی کرا دو تا کہ سنت نبوی پر عمل ہو جائے۔ان کے پاس دنیا نہیں تھی صرف دین تھا اور لوگ اسی وجہ سے اپنی لڑکیاں ان سے شادی کے لئے پیش کر دیا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اپنی شادی بھی اسی قسم کی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عمر پچاس سال سے زائد اور ہماری والدہ بہت چھوٹی عمر کی تھیں۔دلّی والے تو شہروں میں بھی بڑی عمر کے