خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 343

$1940 342 خطبات محمود والی بات ہو گی۔اول تو یہ بات ہی غلط ہے کہ تمام بڑھے شہوانی قوتوں سے محروم ہوتے ہیں۔میں بیسیوں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو اٹھارہ اٹھارہ انیس انیس سال کی عمر کے ہیں مگر ان میں قطعاً شہوانی قوت نہیں اور میں بیسیوں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو ستر ستر یا اسی اسی سال کے ہیں اور ان کے شہوانی قومی نوجوانوں جیسے ہیں یا اچھے خاصے ہیں۔میں نے طب پڑھی ہوئی ہے اور چونکہ کئی دوست مجھ سے طبی مشورہ لیتے رہتے ہیں اس لئے ایسے حالات میرے سامنے آتے رہتے ہیں۔میں جانتا ہوں کہ بعض آدمی بظاہر بڑے مضبوط نوجوان دکھائی دیتے ہیں مگر طاقت مردمی ان میں بالکل نہیں ہوتی۔بعض دفعہ ایسے آدمی شکل وصورت سے بھی پہنچانے جاتے ہیں مگر بعض دفعہ خود ہم بھی ان کی صورت کو دیکھ کر دھوکا کھا جاتے ہیں اور جب وہ بتاتے ہیں کہ ان میں ایسی کمزوری پائی جاتی ہے تو حیرت آتی ہے۔اس کے مقابلہ میں کئی ایسے بڑھے ہوتے ہیں جو لاٹھی کے سہارے چلتے ہیں مگر ان کے شہوانی قوی خوب مضبوط ہوتے ہیں اور ان کے بچے بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔پس یہ بالکل غلط خیال ہے کہ شہوانی قوی بڑھوں میں نہیں ہوتے بلکہ دنیا میں بعض امراض ایسے ہیں جن کے نتیجہ کے طور پر بڑھاپے میں انسان کے اندر شہوت بڑھ جاتی ہے۔ایسی صورت میں یہ فیصلہ کر دینا کہ بڑھوں کو شادی نہیں کرنی چاہیے انہیں بد اخلاقی اور گناہ کے گڑھے میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔جو شخص تقویٰ شعار ہے وہ تو گزارہ کر لے گا مگر جس کے اندر تقویٰ کم ہو گا وہ ناجائز رنگ میں اپنی شہوات کو پورا کرے گا اور اس طرح نہ صرف اس کو بلکہ تمام قوم کو نقصان پہنچے گا۔پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ خالی شہوانی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہی شادی نہیں کی جاتی بلکہ اس لئے شادی کی جاتی ہے کہ ہر انسان کو ایک مونس و غمگسار کی ضرورت ہوتی ہے یا پنجابی محاورہ کے مطابق روٹی ٹک کے لئے انسان شادی کرتا ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس کی احتیاج جوانی میں ہی نہیں بلکہ بڑھاپے میں بھی ہوتی ہے۔پس میں نے لوگوں کی ان باتوں کو نہایت ہی حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور میں نے کہا کہ اگر ہماری جماعت میں ایسی عورتیں موجود ہیں جو بڑھوں کے ساتھ گزارہ کر سکتی ہیں تو ہمیں تو خدا تعالیٰ کا شکر بجالانا چاہئے کہ ان کو جس چیز کی ضرورت تھی اس کو خدا نے خود اپنے فضل سے پورا کر دیا نہ یہ کہ الٹا ہم ناراض ہوں اور ان کے رستے میں روڑے