خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 336

خطبات محمود 66 335 1940ء سودا خلیفۃ المسیح سے نہیں بلکہ مرزا محمود سے ہو رہا تھا اور دوسرا فریق اس بات کا حق رکھتا تھا کہ اگر وہ چاہے تو سودے سے انکار کر کے کسی دوسرے سے سو داشروع کر دے۔ یہ زمیندارہ معاملہ ہے اور اس میں دوسرا شخص اختیار رکھتا ہے کہ وہ چاہے تو مان لے اور چاہے تو نہ مانے۔ اس میں خلافت یا خلیفہ المسیح کا کوئی سوال نہیں اور نہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ دوسرے نے خلیفۃ المسیح کا مقابلہ کیا۔ گو اخلاقی طور پر میرے نزدیک دوسرے فریق کی ہی غلطی تھی کیونکہ جب کوئی شخص سودا کر رہا ہو تو دوسرے کو اس میں دخل نہیں دینا چاہیئے مگر شریعت میں چونکہ یہ بھی مسئلہ ہے کہ جب تک کچھ پیشگی رقم نہ دے دی جائے اس وقت تک سودا مکمل نہیں ہو سکتا۔ اس لئے دوسرے کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ چاہے تو سودے سے انکار کر دے اور کسی دوسرے شخص کو زیادہ قیمت پر دے دے۔ بہر حال ہمارے ملک میں چونکہ عام طور پر لوگوں کو اپنے عہدے جتانے کی عادت ہے جیسے تحصیلدار کہہ دیا کرتے ہیں کہ تم جانتے ہو ہم کون ہیں ہم تحصیلدار ہیں یا ڈپٹی کمشنر کہہ دیا کرتے ہیں تم جانتے ہو ہم کون ہیں ہم ڈپٹی کمشنر ہیں۔ اسی طرح انہوں نے بھی دھمکی دے دی اور کہا کہ تم جانتے ہو یہ سودا خلیفۃ المسیح کر رہے ہیں۔ پس تم کسی اور سے نہیں بلکہ خلیفہ المسیح کا مقابلہ کر رہے ہو۔ حالانکہ یہ زمین خلیفہ المسیح نہیں بلکہ مرزا محمود احمد خرید رہا تھا اور مرزا محمود احمد کے مقابلہ میں ایسے معاملات میں ہر شخص خواہ وہ احمدی ہو یا نہ ہو اس بات کا حق رکھتا ہے کہ وہ اگر چاہے تو انکار کر دے۔ غرض اخلاقی طور پر گو اس سے غلطی ہوئی مگر میں نے پسند نہ کیا کہ میں واقف ہو کر اس کی ناواقفیت سے فائدہ اٹھا لوں۔ تو لوگ بلا وجہ اپنے عہدوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح جو عہدیدار ہیں ان کی عورتوں کے متعلق میرے پاس شکایات آتی رہتی ہیں کہ وہ بھی دوسروں پر رعب جمانا چاہتی ہیں ۔ گویا جو احترام ناظر امور عامہ کو حاصل ہے وہی ناظر امور عامہ کی بیوی بھی حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اور جس طرح ملکہ کو ایک حق حاصل ہوتا ہے اسی طرح وہ بھی اپنا حق جتانا چاہتی ہے۔ حالانکہ ناظر امور عامہ کی بیوی کو کوئی حق نہیں کہ وہ لوگوں پر رعب جتائے۔ وہ جماعت میں محض ایک فرد کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر جماعت سے لوگ اس لحاظ سے کہ اس کا خاوند قوم کا ایک خادم ہے اس کی عزت کریں تو یہ ایک اچھی بات ہے لیکن محض اس وجہ سے کہ وہ