خطبات محمود (جلد 21) — Page 327
1940ء 326 خطبات محمود ہو اور صحابہ کے اعزاز کا خاص خیال رہے۔ باقی خالص تلاشی پر اگر کوئی ناراض ہوتا ہے تو یہ اس کی غلطی ہے۔ یہ قانون ہے اور ہمارے مذہب کی یہی ہدایت ہے کہ حکومت کے قانون کا احترام کریں۔ ہاں اگر کوئی افسر قانون کا ناجائز استعمال کرتا ہے تو اسے سزا دلوائی جاسکتی ہے لیکن یہ حق نہیں کہ کوئی حاکم اگر اپنے حق کا استعمال کرتا ہے تو اس پر ناراض ہوں۔ گو یہ ہم ضرور دیکھیں گے کہ اس نے کس رنگ میں اس فرض کو ادا کیا ہے۔ میرے پاس یہ شکایت بھی پہنچی ہے کہ تلاشی لینے والوں نے سختی کی۔ ہم اس کی بھی تحقیقات کریں گے اور اگر یہ بات ثابت ہو گئی تو اس معاملہ میں بھی مناسب کارروائی کریں گے۔ بہر حال تلاشی لینا ایک جائز فعل ہے۔ گو مجھے یہ بھی خیال ہے کہ سلسلہ کے وقار کو صدمہ پہنچانے کے لئے پچھلے دنوں میں معمولی معمولی باتوں پر احمدیوں کی تلاشیاں لی جاتی رہی ہیں حالانکہ ویسے ہی واقعات غیر احمد یوں میں بھی ہوئے مگر کسی کی تلاشی نہیں ہوئی۔ میں اس بات کی بھی تحقیقات کر رہا ہوں اور اگر میں اس نتیجہ پر پہنچا جو اس وقت میر اخیال ہے تو میں اس کے خلاف بھی آواز اٹھاؤں گا مگر اس کے ساتھ میں جماعت کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے اعمال میں ایسی تبدیلی کریں کہ ان میں سے کسی پر کوئی اعتراض ہو ہی نہ سکے۔ اپنے بُروں کی اصلاح کرے۔ ہمارے پاس بھی بعض لوگوں کے متعلق شکایتیں پہنچتی رہتی ہیں۔ ایسے لوگوں کی اصلاح ہر احمد ی اپنا فرض سمجھے۔ اپنے محلہ کے لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنے بیٹے اور بیٹیاں سمجھ کر ہر رنگ میں ان کی اصلاح کا خیال رکھا جائے اور کوشش کریں کہ ایسے لوگ جماعت میں پیدا ہی نہ ہوں جو قابلِ اعتراض افعال کے مرتکب ہوں۔ اگر کوئی ایسا فعل ہو ہی نہیں تو دشمن کو اعتراض کی جرات ہی نہیں ہو سکتی۔ پس اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھو۔ صرف دوسروں پر ہی اعتراض نہ کرو بلکہ اپنی اصلاح کی طرف بھی توجہ کرو اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے بہت دعائیں کرو کہ وہ ہمیں دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے۔ ہم بتیس دانتوں میں زبان کی حیثیت رکھتے ہیں جس طرح زبان کے ہر وقت کسی نہ کسی دانت کے نیچے آجانے کا خطرہ ہوتا ہے اسی طرح ہم بھی ہر وقت دشمنوں کی طرف سے خطرات سے گھرے ہوئے ہیں اور ان خطرات سے اللہ تعالیٰ ہی ہماری حفاظت کر سکتا ہے۔ پس دعائیں کرتے رہو کہ وہ ہمارا حافظ و ناصر ہو اور ایسے افعال سے بچائے جو دین و دنیا