خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 322

$1940 321 خطبات محمود رض جماعتوں کے لئے مقرر کئے ہیں ان میں ان لوگوں کی خاص طور پر عزت قائم کی گئی ہے جو ابتداء میں ایمان لائے اور قربانیاں کرتے رہے اور یہ ایک ایسا حق ہے جسے ہم کسی صورت میں نظر انداز نہیں کر سکتے۔دنیوی جماعتیں پرانے لوگوں کو نظر انداز کر سکتی ہیں اور کہہ سکتی ہیں کہ اب ہم میں زیادہ عظمند اور زیادہ صاحب حیثیت لوگ شامل ہو گئے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی مقرر کردہ جماعتیں ایسا نہیں کر سکتیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں صحابہ اور سابقون کا خاص درجہ قرار دیا ہے جس کی نظیر دنیوی جماعتوں میں نہیں مل سکتی۔یہ حقوق صحابہ کو اتنے یاد کرائے جاتے تھے کہ وہ جوش کی حالت میں بھی ان کو نہ بھول سکتے تھے۔جب باغی حضرت عثمان کو شہید کرنے کے لئے دیوار پھاند کر ان کے مکان کے اندر داخل ہوئے تو ان میں ایک غلطی خوردہ نوجوان حضرت ابو بکر کا لڑکا بھی تھا وہ آگے بڑھا اور اس نے حضرت عثمان کی داڑھی کو پکڑ لیا۔حضرت عثمانؓ نے اسکی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا اور کہا کہ ابو بکر اس جگہ پر یہ کام نہ کر سکتا۔اور کسی سے آپ نے کچھ نہیں کہا لیکن اسے یہ بات کہی اور اس کا اس پر یہ اثر ہؤا کہ وہ فوراً وہاں سے لوٹ گیا۔وہ حضرت عثمان کا شدید ترین مخالف تھا اور لوگوں کو آپ کے خلاف ابھار تا پھرتا تھا۔وہ خود نیک تھا مگر دھوکا میں آچکا تھا اور سمجھتا تھا کہ اسلام کو آزاد کرارہا ہے اور اس کانٹے کو نکال رہا ہے جو اسلام کی بغل میں چبھا ہوا تھا لیکن عین اس وقت جبکہ وہ انتہائی جوش کی حالت میں تھا حضرت عثمان نے اسے یہ یاد دلایا کہ ابو بکر بھی یہ جرات نہ کر ا سکتا جو تم کرنے لگے ہو تو اس پر اتنا اثر ہوا کہ وہ پیچھے ہٹا اور فوراًلوٹ گیا۔جہاں تک بھائی عبد الرحمن صاحب کے مکان کی تلاشی کا سوال ہے اس میں کسی کی ذمہ داری نہیں۔تلاشی گورنمنٹ کا حق ہے اور اگر وہ قانون کے مطابق کسی کی تلاشی لیتی ہے تو کسی کو اعتراض کا حق نہیں۔تلاشی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بھی ہوئی تھی تو کیا بھائی عبد الرحمن صاحب آپ سے بھی بڑے ہیں۔پس تلاشی لینے پر ناراضگی کا اظہار عبث ہے۔گورنمنٹ کا حق ہے کہ کسی پر شبہ ہو تو اس کی تلاشی لے لے اور ہمار احق نہیں کہ اس کے اس حق میں دست اندازی کریں۔ہاں اگر وہ تلاشی لینا نا جائز ہو تو بعد میں اس کے خلاف پروٹسٹ کیا جاسکتا ہے لیکن اس وقت یہی فرض ہے کہ قانون کی پابندی کرتے ہوئے افسروں کو اپنے فرائض بجالانے کا موقع دیں۔