خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 311

1940ء 310 خطبات محمود اغراض و مقاصد کے مطابق ڈھالنے چاہئیں۔ خدام الاحمدیہ کا فرض ہے کہ وہ اپنے اعمال سے خدمت احمدیت کو ثابت کر دیں۔ انصار اللہ کا فرض ہے کہ وہ اپنے اعمال سے دین اسلام کی نصرت نمایاں طور پر کریں اور اطفال احمدیہ کا فرض ہے کہ ان کے اعمال اور ان کے اقوال تمام کے تمام احمدیت کے قالب میں ڈھلے ہوئے ہوں۔ جس طرح بچہ اپنے باپ کے کمالات کو ظاہر کرتا ہے اسی طرح وہ احمدیت کے کمالات کو ظاہر کرنے والے ہوں۔ یہی غرض اس نظام کو قائم کرنے کی ہے اور یہی غرض انبیاء کی جماعتوں کے قیام کی ہوا کرتی ہے۔ مگر مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ہماری اس تنظیم سے بعض لوگوں میں ایک بے چینی سی پیدا ہو گئی ہے۔ چنانچہ تھوڑے ہی دن ہوئے کسی اخبار کا ایک مضمون میرے سامنے پیش کیا گیا جس میں اس بات پر بڑے غصے کا اظہار کیا گیا تھا کہ انہوں نے کہا ہے جو شخص خدام الاحمدیہ حمد یہ میں شامل ہونے سے دور بھاگے گا وہ خدام الاحمدیہ سے دور نہیں بھاگے گا بلکہ احمدیت سے دور بھاگے گا۔ کہتے ہیں ”ماں سے زیادہ چاہے کٹنی کہلائے“ بھلا ان کو احمدیوں سے کیا واسطہ ۔ ایک جماعت کا امام ایک نظام کا حکم دیتا ہے اور جماعت والے اس نظام کو قبول کر لیتے ہیں وہ اپنی جماعت سے راضی اور جماعت اپنے امام سے راضی پھر ان کو بیٹھے بٹھائے کیوں پیچ و تاب اٹھنے لگتے ہیں؟ میں اگر کسی کو کہتا ہوں کہ اس نے فلاں بات پر عمل نہ کیا تو جماعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں رہے گا تو وہ میری بات کو خوشی سے سنتا اور اس پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح میں بوجہ جماعت کا امام ہونے کے وہی بات کہہ سکتا ہوں جس میں لوگوں کا فائدہ ہو پھر جبکہ جماعت بھی اپنے فائدہ کو سمجھتی ہوئی ایک بات پر عمل کرتی ہے اور امام بھی وہی بات کہتا ہے جس میں جماعت کا فائدہ ہو تو کسی دوسرے کو اس میں دخل دینے کا کیا حق ہے؟ علاوہ ازیں یہ بھی تو سوچنا چاہیے کہ میں جس کے ساتھ جماعت کا تعلق ہے اگر جماعت کے بعض افراد کو ان کی کوتاہی کو دور کرنے کے لئے کوئی تنبیہ کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اگر انہوں نے یہ عمل نہ کیا تو وہ ہماری جماعت میں نہیں رہیں گے تو اس پر انہیں تو بجائے ناراض ہونے کے خوش ہونا چاہئیے کہ اب جماعت کم ہو جائے گی مگر ہوا یہ کہ وہ مخالفت میں اور بھی بڑھ گئے۔