خطبات محمود (جلد 21) — Page 296
$1940 295 خطبات محمود خدا تعالیٰ اسے مل جائے اور اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ اسے مل جاتا ہے۔بے شک اسے دنیوی انعامات بھی ملتے ہیں مگر وہ زائد انعام کے طور پر ہوتے ہیں۔صحابہ نے جو عبادتیں کیں، جو نمازیں پڑھیں ، روزے رکھے یا جہاد کیا وہ اس لئے نہیں کیا تھا کہ دنیا کا مال وزر حاصل ہو جائے بلکہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کا نام دنیا میں قائم ہو اور ان کا خدا ان سے راضی ہو اور یہ چیز اُن کو حاصل ہو گئی۔دنیا بھی ان کو ملی مگر وہ ایک زائد انعام کے طور پر تھی ان کی نیکیوں کا بدلہ نہ تھا۔تو مومن جو کام کرتا ہے وہ خدا کے لئے کرتا ہے لیکن کافر دنیا کے لئے کرتا ہے۔پس مومن کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس نے جو نیکی کی ہے اس کے نتیجہ میں اس کا ایمان بڑھتا ہے یا نہیں۔اگر تو ایمان میں زیادتی ہو اور مزید نیکی کی توفیق ملے تو سمجھ لے کہ اس کی قربانی قبول ہو چکی ہے ورنہ نہیں اور اس کی قربانی صحیح معنوں میں قربانی نہیں تھی۔اگر وہ دیکھے کہ کل جس بشاشت سے اس نے چندہ دیا تھا وہ آج نہیں ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ کل اس نے جو قربانی کی تھی وہ ناقص تھی اور اللہ تعالیٰ نے نور ایمان اس سے چھین لیا ہے۔اگر اس کی آج کی نماز کل سے بہتر نہیں، آج کا روزہ کل سے بہتر نہیں، آج کی زکوۃ کل سے بہتر نہیں۔تو اس کے معنے یہ ہیں کہ اس کی پہلی عبادت میں نقص تھا کیونکہ مومن جو نیکی کرتا ہے وہ خدا کے لئے کرتا ہے اور اس کے بدلہ میں اسے خدا ملنا چاہیئے اور خدا کے ملنے کے یہ معنے ہیں کہ اس کی عبادت میں ترقی ہو۔وہ نیکی اور قربانی میں اور بڑھے۔مومن جو کام خدا کے لئے کرتا ہے اس کے نتیجہ میں خدا اس کے ایمان کو بڑھاتا ہے اور زیادہ نیک اعمال کی توفیق اسے دیتا ہے۔اگر اس کی آج کی عبادت اور نیکی مقبول ہوئی ہے تو لاز ماکل اسے پھر توفیق ملے گی اور اس کی کل کی نیکی اور عبادت آج سے اچھی ہو گی اور پر سوں کی کل سے بہتر ہو گی اور چوتھے دن کی تیسرے دن سے اچھی ہو گی اور اسی کا نام استقلال ہے۔استقلال ایمان کا جزو ہے اور اس کا لازمی حصہ ہے۔یہ ہو نہیں سکتا کہ کوئی مومن صحیح معنوں میں قربانی کرے اور پھر اسے مزید نیکی کی توفیق نہ ملے۔دراصل استقلال نام ہے نیک عمل کے مقبول ہونے کا اور جسے استقلال حاصل نہیں ہوتا اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی نیکی مقبول نہیں ہوئی ورنہ اسے زیادہ نیکی کی توفیق ضرور ملتی۔پھر مومن کو نیک عمل میں لذت حاصل ہوتی ہے اور اس لئے وہ ایک نیک عمل