خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 279

خطبات محمود 278 چھی ہوئی ہے۔ لیکن یہ پانچ موٹی موٹی باتیں ہیں۔ (1) تبلیغ کرنا (2) قرآن پڑھانا (3) شرائع کی حکمتیں بتانا (4) اچھی تربیت کرنا 1940ء رض (5) قوم کی دنیوی کمزوریوں کو دور کر کے انہیں ترقی کے میدان میں بڑھانا۔ یہ پانچ ذمہ داریاں صحابہ پر تھیں اور یہی پانچوں ذمہ داریاں ہم پر عائد ہیں۔ تبلیغ ہمارے ذمہ ہے، تعلیم ہمارے ذ ہمارے ذمہ ہے اور احکام کی حکمتیں بتانا ہمارے ذ ں بتانا ہمارے ذمہ ہے اور جماعت ر جماعت کی مالی اور اقتصادی حالت کی درستی اور اس کی پستی کو دور کرنا ہمارے ذمہ ہے۔ اگر ہم یہ پانچ کام نہیں کرتے تو ہم جھوٹے اور کذاب ہیں۔ اگر ہم اپنے آپ کو صحابی کہتے ہیں انہی کاموں میں سے ایک کام کے متعلق میں نے کچھ عرصہ ہوا قادیان کی جماعت کو توجہ دلائی تھی اور میں نے کہا تھا کہ کم سے کم قادیان میں کوئی ان پڑھ نہیں رہنا چاہیئے مگر خدام الاحمدیہ کی طرف سے مجھے رپورٹ ملی ہے کہ جہاں باقی سب محلوں نے کام ختم کر لیا ہے وہاں مسجد فضل سے تعلق رکھنے والے تعاون نہیں کر رہے۔ (اس سے مراد دار الفضل والے نہیں بلکہ وہ محلہ ہے جسے محلہ آرائیاں بھی کہتے ہیں) اس محلہ کے لوگ نہ تو نمازوں کے لئے باقاعدہ جمع ہوتے ہیں نہ پڑھانے کے لئے جاتے ہیں اور نہ ہی پڑھنے کے لئے آتے ہیں۔ اسی طرح مجھے ہمیں لوگوں کی ایسی لسٹ دی گئی ہے جنہیں اس محلہ کے ان پڑھوں کو تعلیم دینے کے لئے مقرر کیا گیا مگر کسی نے کوئی عذر کر دیا اور کسی نے کوئی اور جس نے مان بھی لیا وہ بھی پڑھانے کے لئے نہیں گیا۔ اور جب ان میں سے بعض کو کہا گیا کہ تمہیں اس جرم کی سزادی جائے گی تو ان میں سے دونے کہا ہم خدام الاحمدیہ سے استعفیٰ دے دیں گے مگر انہیں یاد رکھنا چاہیئے وہ خدام الاحمدیہ سے استعفیٰ نہیں دے سکتے بلکہ انہیں احمدیت سے استعفیٰ دینا پڑے گا۔ یہ پانچ کام ہیں جو محمد صلی اللہ دوم نے کئے۔ یہی پانچ کام ہیں جو صحابہ نے کئے اور یہی پانچ کام ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کئے۔ ہر شخص جو يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آیتہ کے مطابق تعلیم قرآن کا کام نہیں کرتا