خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 267

$1940 266 خطبات محمود۔میری امامت تو میرے زمانہ کے لوگوں تک ختم ہو جائے گی لیکن دنیا تو اماموں کی ہمیشہ محتاج رہے گی اور جب دنیا ہمیشہ اماموں کی محتاج رہے گی تو اے خدا میری ذریت میں سے بھی امام مقرر کئے جائیں۔گویا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ کوئی نبی ہمیشہ ہمیش کے لئے دنیا کے لئے رہبر نہیں رہ سکتا بلکہ بار بار خد اتعالیٰ کی طرف سے امام آنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اب ایک طرف وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار امام آنے کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کے مطابق اپنی اولاد میں سے متواتر امام بنانے کی درخواست کرتے ہیں اور دوسری طرف مکہ سے تعلق رکھنے والے سلسلہ کے متعلق یوں دعا فرماتے رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ کہ اے میرے رب ان میں ایک رسول بھیج۔اب سوال یہ ہوتا ہے کہ یہاں انہوں نے صرف ایک رسول مبعوث کئے جانے کی کیوں دعا کی جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ایک رسول کافی نہیں ہو تا بلکہ دنیا ہمیشہ رسولوں کی محتاج رہتی ہے اور اسی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ سے درخواست کرتے ہیں کہ میری امامت کبھی اچھے نتیجے پیدا نہیں کر سکتی جب تک میری اولاد میں سے بھی امام نہ ہوں اور جب تک ہدایت کا وہ بیج جو میرے ہاتھوں سے بویا جائے اس کا بعد میں بھی نشو و نمانہ ہو تار ہے۔میں تو امام ہو گیا لیکن اگر بعد میں دنیا گمراہ ہو گئی تو میری امامت کیا نتیجہ پیدا کرے گی؟ ج حضرت عیسی علیہ السلام جو آپ کی ذریت سے تعلق رکھنے والے اماموں میں سے ایک امام ہیں ان کے متعلق بھی قرآن کریم میں ذکر آتا ہے کہ قیامت کے دن جب خدا تعالیٰ ان سے پوچھے گا کہ تیری قوم جس شرک میں مبتلا ہوئی کیا اس کی تُو نے لوگوں کو تعلیم دی تھی اور کیا تُو نے یہ کہا تھا کہ میری اور والدہ کی پرستش کرو تو اس کے جواب میں وہ کہیں گے وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ 4 کہ جب تک میں ان میں رہا ان کی نگرانی کرتا رہا مگر جب مجھے وفات دے دی گئی تو حضور پھر میں کیا کر سکتا تھا؟ اور مجھے کیو نکر معلوم ہو سکتا تھا کہ میری قوم بگڑ گئی ہے ؟ گویا حضرت عیسی علیہ السلام بھی یہ امر تسلیم کرتے ہیں کہ نبی کا اثر ایک عرصہ تک ہی چلتا ہے اس کے بعد اگر قوم بگڑ جاتی ہے تو كُنتَ أنتَ الرَّقِيب عَلَيْهِم خدا تعالیٰ کو ان کی ہدایت کا کوئی اور سامان کرنا پڑتا ہے۔یہ بھی