خطبات محمود (جلد 21) — Page 257
$1940 256 خطبات محمود میرے نزدیک قیمت ہی کوئی نہیں میں دوسروں کے سامنے اسے پیش کر کے کس طرح کہہ سکتا ہوں کہ اس کی قدر کرو۔انتظامی اور دنیوی امور میں تو جوں کی ضرورت ہوتی ہے اور لوگ ان کے فیصلوں کو مانتے بھی ہیں مگر دینی امور میں نہیں۔دنیوی امور میں عقیدہ کا کوئی سوال نہیں ہو تا۔وہاں صرف حقوق کا سوال ہوتا ہے۔اس میں حج غلطی بھی کر سکتا ہے مگر چونکہ شخصی حقوق پر قومی امن مقدم ہوتا ہے باوجود جوں سے غلطی کے امکان کے ان کے فیصلوں کو مانا جاتا ہے اور منوایا جاتا ہے۔اس لئے نہیں کہ وہ فیصلے ضرور درست ہیں بلکہ اس لئے کہ خواہ وہ غلط ہوں ان پر عمل کرنے سے ہی ملکی امن قائم رہتا ہے۔رسول کریم صلی ہم بھی فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کوئی شخص اپنے دعوئی میں جھوٹا ہو مگر اپنی چرب زبانی سے اپنے حق میں فیصلہ کرالے۔اسے یاد رکھنا چاہیے کہ میرا اس کے حق میں فیصلہ کر دینا اسے خدا کی گرفت سے نہیں بچا سکے گا۔اگر دیدہ دانستہ وہ دوسرے کا حق لے گا تو قیامت کے دن وہ ضرور اس کی سزا پائے گا۔1 پس جبکہ آنحضرت صلی اللہ علم بھی قضاء کے فیصلوں کی نسبت فرماتے ہیں کہ دھوکا دے کر مجھ سے بھی غلط فیصلہ کرایا جا سکتا ہے تو اور کون سا حج ہو سکتا ہے جس سے غلطی نہ ہو سکے مگر باوجود اس کے افراد سے یہ امید کی جاتی ہے کہ خواہ وہ فیصلہ ان کے نزدیک درست ہو یا غلط اس کو تسلیم کر لیں اور یہ ایک قربانی ہے جو قومی امن کے قیام کی خاطر ان سے طلب کی جاتی ہے مگر دین کے معاملہ میں ایسا نہیں ہو سکتا۔حضرت خلیفہ المسیح الاول کے زمانہ میں ایک دفعہ شیخ یعقوب علی صاحب میرے پاس آئے اور کہا کہ میں نے خواجہ صاحب سے کہا تھا کہ باہم اختلاف درست نہیں۔چنانچہ میری نصیحت کا اثر ہوا ہے اور انہوں نے مجھے بھجوایا ہے کہ آؤ صلح کر لیں۔میں نے انہیں جواب دیا کہ میر ا اور خواجہ صاحب کا اختلاف کیا ہے؟ کیا کسی دنیوی معاملہ پر اختلاف ہے ؟ اگر ایسا ہے تو صلح کا کوئی سوال نہیں وہ مجھ سے جو بھی مطالبہ کرتے ہیں میں اسے منظور کرتا ہوں۔میری کوئی چیز اگر وہ لینا چاہیں تو بے شک لے لیں۔مجھ سے پوچھنے کی بھی ضرورت نہیں لیکن اگر اختلاف دینی ہے تو پھر نہ میرا کوئی اختیار ہے کہ اس میں سے کوئی چیز چھوڑ دوں اور نہ ان کا۔اگر چھوڑیں گے تو پہلے اگر ایک بے دین ہے تو پھر دونوں بے دین ہو جائیں گے۔تو عقائد کے بارہ میں