خطبات محمود (جلد 21) — Page 245
خطبات محمود 245 ” جب آپ نے احمد یہ سٹور قوم کے ہزاروں روپیہ کے سرمایہ ، سے جاری کیا تھا اور اس میں آپ نے اپنی ذمہ داری پر لوگوں سے روپیہ لیا تھا کیا اس کی کامیابی کے لئے دعائیں نہ کی تھیں ؟ اگر کی تھیں تو سٹور کیوں وو * 1940 تباہ و برباد ہوا۔" حالانکہ مجھے کیا مصیبت پڑی تھی کہ میں سٹور کے لئے دعا کرتا۔پھر میں نے تو جو لوگ اس میں کام کر رہے تھے انہیں مشورہ دیتے ہوئے صاف طور پر کہہ دیا تھا کہ قادیان میں بیس ہزار روپیہ سے زیادہ کی تجارت نہیں چل سکتی اور اگر چلائی جائے گی تو نقصان ہو گا۔انہوں نے میری اس بات کو نہ مانا اور 80 ہزار روپیہ جمع کر لیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اتنار و پیہ چونکہ قادیان میں لگ نہیں سکتا تھا اس لئے انہیں نقصان ہو گیا۔مگر بہر حال سٹور کوئی دینی چیز نہیں تھی جس کے لئے میں دعا کرتا اور نہ میں نے اس کے لئے کبھی دعا کی سوائے انابت کی قسم کی دعا کے۔پھر لکھتا ہے:۔“ کیا جناب کو یاد نہیں کہ جب آپ کے نہایت قیمتی گھوڑے چور لے گئے اور آپ نے ان کی واپسی کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔گھوڑے تو واپس کیا آنے تھے الٹا آپ سے بھونگے کی رقم بھی لے کر کھا گئے۔اس وقت آپ کی دعاؤں کو کیا ہوا؟“ یہ بات بھی ویسی ہی غلط ہے جیسی پہلی۔کیونکہ خود بخود یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ چونکہ میرے گھوڑے چوری ہو گئے تھے اس لئے میں نے ان کی دستیابی کے لئے ضرور دعا کی ہوگی۔حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ ان دنوں ایک دوست غالباً چودھری فتح محمد صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اگر یہ گھوڑے نہ ملے تو ہماری اس علاقہ میں بہت ذلت ہو گی۔آپ دعا کریں کہ ہمیں گھوڑے مل جائیں۔میں نے انہیں کہا کہ میں ایسے امر کے لئے دعا کرنے کے لئے تیار نہیں۔میرے لئے اس سے بہت اہم امور دعا کے لئے موجود ہیں وہی میرے لئے بس ہیں۔دعا نہایت مقدس چیز ہے اس کو ایسی ذلیل باتوں کے لئے استعمال کرنا مجھے سخت نا پسند ہے۔ہاں