خطبات محمود (جلد 21) — Page 244
$1940 244 خطبات محمود سب اس جگہ اکٹھی ہو کر رو رہی ہیں۔آپ نے فرمایا میرا یہ مطلب تو نہیں تھا میں نے تو محض اپنے غم کا اظہار کیا تھا۔اس پر ایک صحابی دوڑتے ہوئے ان عورتوں کی طرف گئے اور کہا کہ مت رؤو، رسول کریم صلی اللی علی منع کرتے ہیں۔وہ اس وقت جوش میں بھری ہوئی تھیں انہوں نے کہا ہم تو روئیں گی یہ سن کر وہ پھر رسول کریم صلی للی یکم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یار سول اللہ ! وہ تو باز نہیں آتیں۔اس پر آپ نے فرمایا ڈالو ان کے منہ پر مٹی۔یہ عرب کا ایک محاورہ ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ انہیں اپنی حالت پر چھوڑ دو۔اس وقت وہ جوش کی حالت میں ہیں تھوڑی دیر کے بعد وہ خود ہی خاموش ہو جائیں گی مگر وہ شخص ظاہری الفاظ کا زیادہ پابند تھا اس نے جھولی میں مٹی ڈالی اور جا کر ان عورتوں کے مونہوں پر ڈالنی شروع کر دی۔حضرت عائشہ کو معلوم ہوا تو آپ سخت ناراض ہوئیں اور فرما یار سول کریم صلی این نیم کا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ ان کے منہ پر مٹی ڈالنی شروع کر دو۔آپ کا تو یہ مطلب تھا کہ اب زیادہ کچھ نہ کہو وہ خودہی خاموش ہو جائیں گے۔11 غرض رسول کریم صلی علیم کے سامنے آپ کے بعض عزیز اور رشتہ دار شہید ہوئے اور بعض کی شہادت کے متعلق تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو قبل از وقت اطلاع بھی دی گئی اور اس وجہ سے کہا جا سکتا ہے کہ آپ نے ان کے لئے ضرور دعائیں کی ہوں گی۔مگر خدا تعالیٰ کی جو مثیت تھی وہی ہوا۔اب کیا کوئی بد بخت کہہ سکتا ہے کہ چونکہ رسول کریم صلی ا یکم کی بعض دعائیں قبول نہیں ہوئیں اس لئے آپ کو قبولیت دعا کا منصب حاصل نہ تھا۔اس بد بخت کو میں کہوں گا کہ اے جاہل اللہ تعالیٰ کا تعلق اپنے بندوں سے دوستوں کا سا ہوتا ہے کبھی وہ ان کی سنتا ہے اور کبھی اپنی منواتا ہے۔اے جاہل! تجھے وہ بیسیوں باتیں تو نظر آتی ہیں جن میں خدا تعالیٰ نے اپنی منوائی مگر وہ لاکھوں کروڑوں امور نظر نہیں آتے جن میں محمد رسول اللہ صلی ال نیم کی دعاؤں کو سن کر خدا نے پورا کیا اور اس کی عبودیت پر اپنے عمل سے مہر لگائی۔میں نے جیسا کہ بتایا ہے اس ٹریکٹ میں جو مثالیں پیش کی گئی ہیں ان میں سے اکثر ایسی ہیں جن کے متعلق میں نے کبھی دعا نہیں کی۔مثلاً لکھا۔ہے:۔