خطبات محمود (جلد 21) — Page 243
1940ء 243 خطبات محمود دعائیں کیں مگر خدا تعالیٰ کی مشیت کے مطابق وہ قبول نہ ہوئیں اور آپ نے خدا تعالیٰ کی مرضی کو اپنی مرضی پر مقدم رکھا۔ 10 اسی طرح آپ کا ایک اور جو ان چچا جس نے اپنے ملک، اپنی قوم اور اپنے رشتہ داروں کو آپ کی خاطر چھوڑ دیا تھا وہ آپ کے سامنے اس طرح مارا گیا کہ دشمن نے اس کا کلیجہ نکال کر دانتوں سے چبا لیا۔ پھر آپؐ کا ایک اور چیرا بھائی دور میدانوں میں ، سینکڑوں میل دور مدینہ سے پرے، غربت کی حالت میں وطن سے الگ بلکہ دو وطنوں سے علیحدہ ہونے کی حالت میں کیونکہ وہ پہلے مکہ سے مدینہ آیا اور پھر مدینہ سے شام کے میدانوں میں گیا، جہاد کرتے ہوئے شہید ہو گیا۔ مدینہ میں جب جنگ میں شہید ہونے والوں کے متعلق اطلاع پہنچی تو تمام لوگوں نے اپنے اپنے مردوں پر رونا شروع کر دیا۔ آپ کو بھی اپنے چیرے بھائی کی وفات کا جس کا نام جعفر تھا سخت صدمہ ہوا اور اسی صدمہ کی حالت میں آپ مدینہ کی گلیوں میں سے گزرے تو سے بعض گھروں میں سے رونے کی آواز آئی۔ مگر جب حضرت جعفر کے مکان کے پاس ۔ گزرے تو وہاں کوئی رونے والا نہیں تھا۔ رسول کریم صلی الم یہ تو نہیں کہ رونے کو پسند کرتے تھے یا صحابہ بلند آواز سے رویا کرتے تھے مگر ایسے موقع پر چونکہ آواز کو بعض دفعہ ! دفعہ پوری طرح دبایا نہیں جا سکتا خصوصاً نوجوان لڑکیوں سے ، اس لئے بعض گھروں سے رونے کی آواز آرہی تھی لیکن جعفر کے مکان کے پاس بالکل خاموشی تھی۔ جب آپ وہاں پہنچے تو آپ کے دل میں درد پیدا ہوا اور آپ نے فرمایا افسوس جعفر کو رونے والا بھی کوئی نہیں۔ انصار ( اللہ تعالیٰ کی ان پر بڑی بڑی رحمتیں ہوں ) رسول کریم صلی الم کا کوئی لفظ ضائع نہیں ہونے دیتے تھے۔ جو نہی انہوں نے رسول کریم صلی علیم کے یہ الفاظ سنے وہ بھاگ کر اپنے گھروں کو گئے اور انہوں نے اپنی عورتوں سے کہا کہ نیک بختو ! تم اپنے مردوں کو روتی ہو اور محمد صلی علیم کے فوت شدہ عزیز کو نہیں روتیں فوراً جعفر کے گھر جاؤ اور وہاں رونا شروع کر دو۔ چنانچہ مدینہ کی تمام عور تیں حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر اکٹھی ہو گئیں اور انہوں نے ایک کہرام مچا دیا۔ رسول کریم صلی الم نے سنا تو فرمایا کیا ہوا ؟ انصار نے کہا یا رسول اللہ صلی علیم آپ نے جو فرمایا تھا کہ جعفر پر کوئی رونے والا نہیں ؟ ہم نے اپنی عورتوں کو جعفر کے گھر بھیجوا دیا ہے اور وہ رض