خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 208

$1940 208 خطبات محمود وہ گنہگار ہوتا ہے۔یہ وہ طریق ہے جس نے محمد صلی اللی علم کی مکی زندگی کو بھی ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیا اور محمد صلی یکم کی مدنی زندگی کو بھی ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیا۔اگر کوئی کہے کہ بعض زمانوں میں جہاد کرنا انصاف کے خلاف ہوتا ہے تو ہم کہیں گے بے شک یہ درست بات ہے۔ہمارے محمد صلی الم نے بھی مکی زندگی میں جہاد نہیں کیا اور اگر کوئی کہے کہ کبھی انصاف کے قیام اور اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے تلوار اٹھانا بھی ضروری ہوتا ہے تو ہم کہیں گے یہ بالکل درست ہے۔ہمارے محمد صلی علیم نے بھی انصاف کے قیام اور اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے مدینہ میں تلوار اٹھائی۔گویا ہمارے سامنے جو تعلیم بھی پیش کی جائے اس کے متعلق رسول کریم صلی نیم کا کوئی نہ کوئی اسوہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہو گا۔اگر محبت اور پیار سے کام لینے اور صبر کے ساتھ دوسروں کے مظالم برداشت کرنے کا سوال ہو تو لوگوں کے سامنے محمد صلی ا لم کی مکی زندگی پیش کر سکتے ہیں کہ کس طرح متواتر تیرہ سال تک آپ نے کفار کے مظالم اور ان کی تکالیف کو برداشت کیا اور اگر کوئی شخص ہمارے سامنے یہ بات پیش کرے کہ بعض ایسے گندے اور بد فطرت لوگ بھی موجود ہوتے ہیں جو بغیر اس کے کہ ان کا منہ توڑا جائے اپنے ناپاک عزائم سے باز نہیں آتے اور وہ نیکی اور تقویٰ کو دنیا سے مٹانا چاہتے ہیں۔ایسے لوگوں کا علاج مقابلہ کے سوا اور کوئی نہیں ہوتا۔تو ہم کہیں گے محمد صلی الی ایم کی ذات میں یہ اسوہ بھی موجود ہے۔آج کانگرس کو دیکھ لو اس نے کس طرح مجبور ہو کر اسی اصل کو اختیار کیا ہے جو اسلام نے دنیا کے سامنے پیش کیا اور کس طرح اسی نے گاندھی جی کے “اہنسا” کے اصول کو کلیۂ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔یا تو یہ حالت تھی کہ گاندھی جی کو تمام کا نگر سیوں نے اپنا لیڈر بنایا ہوا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ اہنسا ” ایک کامیاب ہتھیار ہے اور یا آج یہ حالت ہے کہ اسی ہفتہ میں کانگرس نے ایک ریزولیوشن پاس کیا ہے جس میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ کانگرس اہنسا کو اس حد تک تسلیم نہیں کر سکتی جس حد تک گاندھی جی اسے منوانا چاہتے ہیں اور چونکہ گاندھی جی ملک پر بیرونی حملہ کے وقت میں بھی اہنسا ” سے ہی کام لینا ضروری خیال کرتے ہیں اور کانگرس کو اس سے اتفاق نہیں اس لئے کانگرس گاندھی جی کو لیڈری سے سبکدوش کرتی۔