خطبات محمود (جلد 21) — Page 158
1940 158 خطبات محمود اب ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔خود فرانسیسی وزیر اعظم نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ فرانس کو اب معجزہ کے سوا کوئی چیز نہیں بچا سکتی۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ خود فرانسیسیوں کے دلوں میں یہ خیال پید اہو گیا تھا کہ فرانس اب کہاں بچ سکتا ہے۔صفیں ٹوٹ گئیں ہیں اور فوجیں پسپا ہو رہی ہیں مگر جہاں برطانیہ وفرانس کی صفیں ٹوٹیں وہاں جرمن فوجیں جو اپنے مورچوں سے سینکڑوں میل آگے نکل چکی تھیں ان کو سامان رسد پہنچنا بھی کوئی آسان نہ تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ادھر برطانیہ و فرانس کی فوجیں پسپا ہوئیں اور ادھر جرمنوں نے اپنے اندر کمزوری محسوس کی اور انہوں نے سمجھا کہ سامان کی کمی کی وجہ سے اگر ہم اس وقت آگے بڑھے تو مارے جائیں گے۔چنانچہ ادھر جرمن فوجیں ٹھہریں اور اُدھر برطانیہ و فرانس نے اس التواء سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فور آنے مورچے بنانے شروع کر دیئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ چودہ پندرہ تاریخ کو انگریزوں اور فرانسیسیوں کی جو حالت تھی اس سے آج ۳۱ تاریخ کو انگریزوں اور فرانسیسیوں کی حالت بہت زیادہ بہتر ہے۔اس دن خود انگریزوں اور فرانسیسیوں میں بے چینی پیدا ہو چکی تھی مگر آج وہ اطمینان کا سانس لے رہے ہیں اور اب پھر انہوں نے فتح کے نعرے لگانے شروع کر دیئے ہیں اور گو یہ پسندیدہ بات نہیں مگر قومی رواج کے ماتحت وہ ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔انگریزی وزیر اشاعت نے تو ایک تقریر کرتے ہوئے کھلے طور پر کہہ دیا ہے کہ ہٹلر کے لئے پہلے صلح کی مجلس میں ہم نے ایک کرسی رکھی ہوئی تھی مگر اب اسے معلوم ہونا چاہیئے کہ وہ کرسی اٹھا دی گئی ہے۔اس سے معلوم ہو تا ہے کہ اس قوم میں سامانوں کے جمع ہو جانے اور بیداری و ہو شیاری کی وجہ سے اس بات کا احساس پیدا ہو چکا ہے کہ اب وہ شکست نہیں کھا سکتے۔اس کے مقابلہ میں جرمنی کو بھی اس بات کا احساس ہو تا چلا جارہا ہے کہ جتنی جلدی فتح کی امیدیں اس نے ابتداء میں لگائی تھیں وہ درست نہیں تھیں۔چنانچہ آج سے پندرہ بیس دن پہلے جر من براڈ کاسٹ میں میں نے یہ خبر سنی کہ فرانسیسی فوج ہماری فوج کے مقابلہ میں بھاگ رہی ہے اور اب جلد ہی اس لڑائی کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ایک جرمن وزیر نے تو کچھ عرصہ پہلے تقریر کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ شمالی فرانس کی پہاڑیوں پر جو لوگ اس دفعہ گرمیاں گزارنے کی خواہش رکھتے ہوں یا ان پہاڑوں کی سیر کا