خطبات محمود (جلد 21) — Page 147
1940ء 147 خطبات محمود نے دیکھا کہ اس کی طاقت اور اس کا زور اس کے کسی کام نہیں آیا اور اس کی جان خطرے میں گھری ہوئی ہے تو اُس نے اُس وقت جب اس کی طاقت اسے جواب دے چکی تھی اپنے رعب وو سے کام لینا چاہا اور جو نہی چور نے خنجر نکال کر اسے مارنا چاہا۔ اس نے کہا “ آ گیا ر ستم ، آ گیا اسن کر اسے چھوڑ کر دوڑ پڑا دو رستم ” وہ چور جس نے رستم کو گرایا ہوا تھا “ آگیا رستم ” کے الفاظ سن کر اسے ا کیونکہ وہ سمجھ رہا تھا کہ جس شخص کو اس نے نیچے گرایا ہوا ہے وہ رستم کا کوئی نوکر ہے ورنہ اگر اسے ابتداء میں ہی معلوم ہوتا کہ میرا مد مقابل رستم ہے تو شاید وہ اس کا مقابلہ ہی نہ کرتا۔ گویا رستم کا نام رستم سے زیادہ پر رعب تھا۔ تو رعب انسانوں کو ناکارہ کر دیتا ہے اور مایوسی سے زیادہ کسی قوم کو تباہ کرنے والی اور کوئی چیز نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے میں نے اپنی خلافت کے ایام میں ہمیشہ جماعت کو بُری خبریں پھیلانے اور قوم کے اندر مایوسی اور بد دلی پیدا کرنے والی باتوں سے روکا ہے اور میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ ایسی باتیں قوم کو تباہ کرنے والی ہوتی ہیں اور میرے مخالف لوگ میرے خلاف جو الزامات لگاتے رہے ہیں ان میں سے ایک الزام مجھ پر یہ بھی لگایا جاتا رہا ہے کہ میں لوگوں کی حریت ضمیر کو سلب کرتا ہوں۔ کچھ سادہ لوح بے شک ان کی باتوں میں آئے ہوں گے اور انہوں نے سمجھا ہو گا کہ واقع میں یہ حریت ضمیر کو سلب کرتا ہے مگر میں سمجھتا ہوں ان کے یہ الزمات اللہ تعالیٰ کے حضور میرے نیک کاموں میں شمار ہوں گے کیونکہ جو کام میں نے کیا وہ جماعت کی ترقی اور اس کی بہبودی کے لئے ضروری تھا۔ اگر ایسانہ کیا جاتا تو لوگوں کا جماعت کو تباہ کر دینا بالکل آسان ہوتا۔ چھوٹی جماعتوں کا تو کیا بڑی بڑی جماعتیں ان غلطیوں سے برباد ہو جاتی ہیں۔ اسی لئے رسول کریم صلی الم نے فرمایا کہ مَنْ قَالَ هَلَكَ الْقَوْمُ فَهُوَ أَهْلَكَهُمْ - 1 كم جو شخص یہ کہے کہ قوم ہلاک ہو گئی وہ خود اس قوم کو ہلاک کرنے والا ہو تا ہے۔ کیونکہ جب بھی کسی جماعت کے متعلق کہا جائے کہ وہ مر گئی مر گئی تو وہ مرنے لگ جاتی ہے اور جب کسی قوم کو بہادر بنانا ضروری ہو اور اسے کہا جائے کہ وہ خوب ترقی کر رہی ہے اور گو اس قوم کے بعض افراد پہلے سست ہی ہوں اس کے نتیجہ میں اس کے حوصلے بلند ہو جاتے ہیں اور وہ ترقی کی طرف اپنا قدم بڑھانا شروع کر دیتے ہیں۔