خطبات محمود (جلد 21) — Page 142
1940 142 خطبات محمود مگر یہ اُسی وقت جائز ہوتا ہے جب شریعت اس کی اجازت دیتی ہو۔یا کسی کی معذوری ایسی واضح ہو جس کے علاج کی کوئی صورت نہ ہو۔جیسے روپے دے کر اپنی طرف سے کسی کو تبلیغ کے لئے مقرر کر دینا صرف اس کے لئے جائز ہو گا جو گونگا ہو اور جس کے منہ میں زبان نہ ہو۔اس کے لئے یہ بے شک جائز ہو گا کہ وہ اپنی طرف سے کسی اور کو تبلیغ کے لئے مقرر کر دے اور اس کے اخراجات کو خود برداشت کرے۔یہ ایسا ہی ہے جیسے اگر کوئی شخص اپنی کسی معذوری کی وجہ سے حج کے لئے نہیں جاسکتا تو وہ اپنی طرف سے کسی اور کو روپیہ دے کر حج کر اسکتا ہے مگر جو شخص حج کے لئے جا سکتا ہو اور اس کے لئے کسی قسم کی روک نہ ہو اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی اور کو اپنی طرف سے حج کے لئے بھیج دے اور اگر وہ کسی کو روپیہ دے کر اپنی طرف سے حج کرواتا ہے تو اس کا حج ہر گز قبول نہیں ہو گا۔پس جبکہ تبلیغ ایک جہاد ہے اور یہ جہاد ہر شخص پر فرض ہے تو جو شخص اتنے اہم فریضے کو ترک کرتا ہے اس کے گنہگار ہونے میں کیا شبہ رہ سکتا ہے۔اگر اس تبلیغ کی حیثیت محض نوافل کی سی ہوتی تب بھی اس میں شمولیت حصول ثواب کے لئے ضروری تھی مگر جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہ جہاد ہے اور جہاد فرض ہو ا کرتا ہے نفل نہیں ہو تا۔پس ہر احمدی جو اپنی زبان سے دوسروں کو تبلیغ کرنے کی طاقت رکھتا ہے مگر وہ اپنے اوقات میں سے تبلیغ کے لئے کوئی وقت نہیں دیتا وہ یقینا ایک فریضہ کو ادانہ کرنے کی وجہ سے ایسا ہی گنہگار ہے جیسے نماز کا تارک گنہگار ہے ، ایسا ہی گنہگار ہے جیسے روزہ کا تارک گنہگار ہے، ایسا ہی گنہگار ہے جیسے حج کا تارک گنہگار ہے اور ایسا ہی گنہگار ہے جیسے زکوۃ کا تارک گنہگار ہے۔پس اس مسئلہ کی اہمیت جماعت کو اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے اور یہ امر ذہن نشین کر لینا چاہیئے کہ اس وقت تلوار کے جہاد کی بجائے تبلیغ اسلام کا جہاد ہر مومن پر فرض ہے اور اگر یہ بات غلط ہے کہ تلوار کا جہاد اس وقت حرام ہے تو ایسی صورت میں تمہارا فرض ہے کہ تلوار لو اور کفار کو مار ناشروع کر دو۔لیکن اگر تلوار کا جہاد اس وقت حرام ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ایسے وقت میں تبلیغ اسلام کا جہاد شروع ہو جاتا ہے۔اور یہ امر ظاہر ہے کہ جہاد میں اپنا قائمقام دینے کی کسی کو اجازت نہیں ہوتی بلکہ ذاتی طور پر ہر شخص کا فرض ہوتا ہے