خطبات محمود (جلد 21) — Page 138
1940ء 138 خطبات محمود اس لئے یہ بات بری لگی ہو اور پھر یہ بھی ممکن ہے کہ مولوی صاحب نے کہا ہو تم دیتے کیوں نہیں؟ اور یہ بات بری لگی ہو۔ بہر حال میں نے دریافت کرایا ہے کہ مولوی صاحب نے کون سی گالی دی۔ بہر حال بعض باتیں ایسی ہیں کہ جو بیان کی جائیں تو ان کو بُری لگتی ہیں اور ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب وہ اس قسم کے ازدواج کو جائز سمجھتے ہیں تو پھر لڑکیاں دیتے کیوں نہیں جبکہ غیر احمدیوں میں بھی قوم تعلیم اور اخلاق کے لحاظ سے ایسے لڑکے مل سکتے ہیں جیسے احمدیوں میں۔ اور ان کا ایسانہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یا تو وہ دل میں اسے جائز نہیں سمجھتے اور یا ان کے دماغ تو اس کو جائز سمجھتے ہیں مگر دل ڈرتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہو گا اور یہ ایسی بات ہے کہ جب بھی کی جائے ان کو بُری لگے گی۔ مگر مسئلہ کو سمجھانے کے لئے ہم بھی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ تاہم میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اگر کوئی ایسی بات کرنی بھی پڑے تو نرم الفاظ میں کی جائے۔ پس میں جہاں یہ ہدایت کرتا ہوں کہ غیر مبائعین کا مقابلہ پورے زور سے کیا جائے وہاں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ ایسا طریق اختیار کیا جائے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا موجب ہو اور اسے ناراض کرنے والا نہ ہو۔ اور یہ بات کہہ کر میں خدا تعالیٰ کے حضور سبکدوش ہوتا ہوں۔ یہی طریق ہے جس میں دین کی فتح ہو سکتی ہے اور جس میں خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہو سکتی ہے۔ ورنہ جس فتح میں خدا تعالیٰ کی خوشنودی نہ ہو اس کی طرف تو مومن کو نگاہ اٹھا کر بھی کبھی نہ دیکھنا چاہیے۔“ (الفضل یکم مئی 1940ء) 21 تذکرہ صفحہ 10 ایڈیشن چہارم 3 يوحنا باب 8 آیت 42 تا 44