خطبات محمود (جلد 21) — Page 107
1940ء 107 خطبات محمود ایک شخص کو خلیفہ مان کر اور اس کی اطاعت کا اقرار کر کے ہم سے غلطی ہوئی ہے اب کسی طرح اس غلطی کو مٹانا چاہیئے تا جماعت دوبارہ اس کا ارتکاب نہ کرے۔ اس مسئلہ کے متعلق ایک سوال ہے جو ہماری جماعت کے دوستوں کو یاد رکھنا چاہیئے اور ہمیشہ ان لوگوں کے سامنے پیش کرتے رہنا چاہئے اور وہ یہ کہ یہی لوگ جو آج کہتے ہیں کہ الوصیت سے خلافت کا کہیں ثبوت نہیں ملتا ان لوگوں نے اپنے دستخطوں سے ایک اعلان شائع کیا ہوا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد حضرت خلیفہ اول کی بیعت کے وقت انہوں نے کیا۔ اس اعلان میں ان لوگوں نے صاف طور پر لکھا ہوا ہے کہ :۔ 66 مطابق فرمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام مندرجہ رسالہ الوصیت ہم احمدیان جن کے دستخط ذیل میں ثبت ہیں اس امر پر صدق دل سے متفق ہیں کہ اول المهاجرین حضرت حاجی مولوی حکیم نورالدین صاحب جو ہم سب میں سے اعلم اور ا سب میں سے اعلم اور اتقی ہیں اور حضرت امام کے سب سے زیادہ مخلص اور قدیمی دوست ہیں اور جن کے وجود کو حضرت امام علیہ السلام اسوۂ حسنہ قرار فرما چکے ہیں جیسا کہ آپ کے شعر چه خوش بو دے اگر ہر یک زامت نور دیں بودے ہمیں بودے اگر ہر یک پُر از نور یقیں بودے سے ظاہر ہے ، کے ہاتھ پر احمد کے نام پر تمام احمدی جماعت موجودہ اور آئندہ نئے ممبر بیعت کریں اور حضرت مولوی صاحب موصوف کا فرمان ہمارے واسطے آئندہ ایسا ہی ہو جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا۔“ پس جماعت کے دوستوں کو ان لوگوں سے یہ سوال کرنا چاہیئے اور پوچھا چاہیے کہ تم ہمیں “الوصیت ” کا وہ حکم دکھاؤ جس کے مطابق تم نے حضرت خلیفہ اول کی بیعت کی تھی دو اس کے جواب میں یا تو وہ کہیں گے کہ ہم نے جھوٹ بولا اور یا کہیں گے کہ الوصیت میں ایسا حکم موجود ہے اور یہ دونوں صورتیں ان کے لئے کھلی شکست ہیں۔ یعنی یا تو وہ یہ کہیں گے کہ