خطبات محمود (جلد 21) — Page 91
* 1940 91 خطبات محمود پھر غریبوں اور مسکینوں کے لئے جو انتظام یہاں ہیں وہ دنیا میں اور کسی جگہ نہیں۔اگر کسی کو کوئی شکایت ہے تو وہ محض حسد کی وجہ سے ہے۔ایک شخص سمجھتا ہے مجھے دس روپے ملنے چاہئیں مگر ملتے صرف دو ہیں۔وہ یہ نہیں سمجھتا کہ اگر وہ کسی اور جگہ ہو تا تو یہ دو بھی نہ مل سکتے حسد کی وجہ سے شکایت کرنے لگتا ہے۔میں کہتا ہوں دنیا کا کوئی اور ایسا شہر تو بتاؤ جہاں اس طرح لوگوں کے کھانے اور کپڑے کا انتظام ہوتا ہو جیسا یہاں ہو تا ہے۔کوئی مال دار سے مال دار قوم ایسی نہیں جو غریبوں کی اس طرح پرورش کرتی ہو جیسی ہم کرتے ہیں۔بے شک ہمارے ذرائع محدود ہیں اس لئے ہم محدود امداد ہی کر سکتے ہیں۔یہ صحیح ہے کہ اسلامی حکومت میں ہر شخص کے لئے کھانے پہنے اور مکان کا انتظام حکومت کے ذمہ ہو تا ہے اوراگر خد اتعالیٰ ہمیں فراخی عطا کرے تو ہم بھی ایسا کریں گے مگر بہر حال دوسری قوموں کی نسبت ہماری موجودہ حالت اچھی ہے۔بعض لوگ نسبت نہیں دیکھتے بلکہ شان کا مقابلہ شان سے کرتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ جس شخص کو دس روپیہ میں آٹھ روپیہ کا مال ملے وہ اچھا ہے یا جسے ایک پیسہ میں دو پیسہ کا مال مل جائے۔اس کے دس روپیہ میں ایسی نحوست ہے کہ اسے اس میں آٹھ روپیہ کا مال ملتا ہے اور ہمارے ایک پیسہ میں اتنی برکت ہے کہ اس میں دو پیسہ کا مال ملتا ہے۔بے شک اس کے پاس روپے زیادہ ہیں مگر برکت تو ہمارے مال میں زیادہ ہے۔جن کی آنکھیں ہیں وہ دیکھتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل کے ماتحت ہر جہت سے ترقی کر رہے ہیں۔ہمارے نظام میں بھی بہتری پیدا ہو رہی ہے۔اگر ہم قربانی اور ایثار میں ترقی کریں اور تبلیغ کو وسیع کریں تو وہ دن بھی دور نہیں جب حکومت بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری ہو گی۔کیونکہ حاکم لوگ بھی تو آخر ہدایت کے محتاج اور خواہشمند ہیں لیکن اگر اس وقت ہمارے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت نہ ہوئی تو وہ دن برکت والے نہ ہوں گے اور ایک مومن تو اس بات کو پسند کرے گا کہ وہ مر جائے بہ نسبت اس کے کہ اس کے دل سے خدا تعالیٰ کی محبت کم ہو جائے۔حضرت ابو ذر غفاری رسول کریم صلی ال نیم کے ایک صحابی تھے ان کو دنیوی مال و دولت سے اس قدر نفرت تھی کہ جب مسلمانوں کو مال بکثرت ملنے لگے تو وہ ہر ایک سے لڑتے تھے کہ تم مال کیوں رکھتے ہو ؟ آخر حضرت عثمان نے اُن سے کہا کہ آپ کسی گاؤں میں جا بیٹھیں تا