خطبات محمود (جلد 21) — Page 468
$1940 467 خطبات محمود محمد حسین صاحب کے مقابلہ پر لے چلیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیشہ اپنے آپ کو حنفی کہا کرتے تھے۔آپ سے لوگوں نے کہا تو آپ نے فرمایا اچھا چلتے ہیں اگر کوئی بات ہوئی تو کریں گے۔لوگ مجلس میں اکٹھے ہوئے۔آپ بھی تشریف لے گئے۔آپ فرماتے ہیں کہ ہم کو اہل حدیث کے متعلق زیادہ واقفیت اس زمانہ میں نہ تھی۔اس لئے مولوی صاحب سے دریافت کیا کہ آپ کے عقائد کیا ہیں تاکہ بحث سے پہلے یہ تو معلوم ہو کہ آپ کہتے کیا ہیں۔مولوی محمد حسین صاحب نے کھڑے ہو کر بیان کیا کہ ہم خدا کو مانتے ہیں، رسول کو مانتے ہیں، قرآن کو خدا تعالیٰ کا کلام مانتے ہیں، قرآن کریم کو حدیث پر مقدم کرتے ہیں اور حدیث کو خیالی آراء پر مقدم کرتے ہیں۔غالی اہلحدیثوں کا عقیدہ تو اس سے سخت ہوتا ہے۔پھر ممکن ہے مولوی محمد حسین صاحب نے مصلحت وقت کے تحت یہ بات کہہ دی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ باتیں سن کر فرمایا کہ یہ باتیں تو بالکل معقول ہیں۔میں ان کا جواب کیا دوں۔چونکہ اس جواب سے حنفیوں کو کچھ ذلت محسوس ہوئی اس لئے انہوں نے بہت برا بھلا کہنا شروع کیا اور طنزیں کرنے لگے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے کہ ہم وہاں سے آگئے اور خاص اللہ کے لئے بحث کو ترک کیا گیا۔رات کو خداوند کریم نے اپنے الہام اور مخاطبت میں اس ترک بحث کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تیرا خدا تیرے اس فعل سے راضی ہوا اور وہ تجھے بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔” 3 پس میں چاہتا ہوں کہ ان لوگوں میں سے جو مربی تیار ہوں وہ بھی تقویٰ کے ماتحت کام کریں، سنجیدگی کا دامن کبھی نہ چھوڑیں اور خد تعالیٰ کی خوشنودی کو ہمیشہ مد نظر رکھیں۔ان کا مقصد بحث کبھی نہ ہو بلکہ ایسا نمونہ پیش کریں کہ دوسروں میں جو خرابیاں ہیں وہ دور ہو سکیں اور وہ ایسی سد سکندری کا کام دیں جو یا جوج ماجوج کے حملوں کو روک دے۔پس اس کام کے متعلق اپنی زندگیاں وقف کرنے کی تحریک میں جماعت کے نوجوانوں کو کرتا ہوں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس کے لئے گریجوایٹ کی شرط ہے لیکن اگر کوئی آخری سالوں میں تعلیم پارہا ہو تو وہ بھی اپنا نام پیش کر سکتا ہے۔وہ اپنی تعلیم جاری رکھے۔پاس ہونے کے بعد انتخاب کے لئے ہم اسے بلا لیں گے۔انٹرنس پاس مولوی فاضل بھی اپنے نام دے سکتے ہیں اور اسی طرح