خطبات محمود (جلد 21) — Page 463
$1940 462 خطبات محمود یہ آواز اٹھائی کہ یہ کس طرح کا عدم تشدد ہے جو یہ پیش کرتے ہیں۔اس میں تو تشدد کا پہلو پایا جاتا ہے۔حالانکہ اس وقت ہر ہندو اور مسلمان یہ کہہ رہا تھا کہ یہ ایک عجیب ایجاد ہے مگر آج کئی لوگ اس رائے کا اظہار کر رہے ہیں جسے میں نے پیش کیا تھا۔تو کسی خیال کی تائید میں ہزاروں لاکھوں لوگوں کا لگ جانا دوسروں پر بھی یہ اثر پیدا کر تا ہے کہ یہ واقعی اچھی چیز ہے۔پس اگر مسلمان بھی اپنے عالموں اور مختلف علوم سے واقف لوگوں کی عزت کریں تو دنیا میں ان کی شہرت قائم ہو سکتی ہے۔خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔اس سے میری غرض صرف یہ بیان کرنا ہے کہ آج بھی جو مسلمان حساب کی طرف توجہ کرے وہ انتہائی درجہ پر پہنچ جاتا ہے۔اسی طرح علم کیمیا بھی مسلمانوں کی ایجاد ہے۔کیمیا سے مراد سونا بنانا نہیں بلکہ کیمسٹری ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ یہ علم پہلے بھی موجود تھا لیکن اس کا بیشتر حصہ مسلمانوں کی ایجاد ہے اور اس میں انہوں نے انتہائی ترقی کی اور بہت سے مرکبات جو آج بھی استعمال ہوتے ہیں وہ اس زمانہ کے مسلمانوں کے ایجاد کردہ ہیں۔تمام ٹینکچر الکحل میں بنتے ہیں اور الکحل مسلمانوں کی ایجاد ہے۔وہ اسے روح کہتے تھے۔بلکہ میر اخیال ہے کہ الکحل کا لفظ بھی ان میں مستعمل تھا۔اسی طرح اور بھی بہت سی چیزیں جو دوائیوں یار نگوں میں کام آتی ہیں مسلمانوں کی ایجاد ہیں۔رنگوں میں جتنی ترقی مسلمانوں کے زمانہ میں ہوئی کسی زمانہ میں نہیں ہوئی۔اسی وجہ سے رنگوں والے تمام کپڑے عرب سے یورپ میں جاتے تھے حتی کہ آج تک انگریزی میں ان کے نام وہی ہیں۔مثلاً تافتہ ہے اسے انگریزی میں ٹیفٹ کہتے ہیں۔آج نوجوان اسے دیکھتے اور کہتے ہیں کیا اچھی ایجاد ہے مگر انہیں علم ہی نہیں کہ یہ پہلے عرب میں بنتا اور تافتہ کہلاتا تھا۔ڈمکس(DAMASCUS) کا نام بھی دمشق کے نام پر ہے یعنی دمشق میں بننے والا۔ململ بے شک ہندوستان کی بھی مشہور تھی مگر اعلیٰ درجہ کی ململ موصل میں تیار ہوتی تھی اور اسی وجہ سے اسے مسولین کہا جاتا ہے اور یہ کپڑے گو آج انگلستان اور یورپ کے دوسرے ملکوں میں بننے لگے ہیں مگر ان کے نام وہی ہیں۔اگر چہ لہجہ بدل گیا ہے۔تجارت کی وجہ سے ساری دنیا مسلمانوں سے دیتی تھی کیونکہ ان کی تیار کردہ چیزوں کی وہ محتاج تھی۔لیکن اس کے بعد مسلمانوں نے کیمسٹری کو چھوڑ دیا حتی کہ ان میں نام کو بھی کیمیا کا کوئی ماہر نہیں ملتا۔سونا بنانے