خطبات محمود (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 486

خطبات محمود (جلد 21) — Page 426

$1940 425 خطبات محمود ان کا کرے گی۔اور یہ تو پتہ ہی ہے کہ اس صورت میں گاندھی جی روزہ ضرور رکھیں گے اور اگر پھر اس نے ان کی بات کو مان لینا ہے تو اس لڑائی کے شروع کرنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں۔میں تو ہمیشہ سے حکومت کو یہی مشورہ دیتا رہا ہوں کہ وہ حکام کے اچھی طرح ذہن نشین کر دے کہ وہ وہی حکم دیں جسے پورا کر سکیں۔سوائے اس کے کہ ان پر واضح ہو جائے کہ ان کا حکم ناواجب تھا۔ایسی صورت میں ضرور ان کو یہ تسلیم کر لینا چاہیئے کہ ان کی غلطی تھی اور اپنے حکم کو واپس لے لینا چاہیئے۔مگر یہ امر کہ حکم کو توڑا جائے اور وہ خاموش رہیں اس کی بے رُعبی کا موجب ہے اور ملک میں فسادات کو بڑھانے والی بات ہے۔اور اس کے نتیجہ میں جو فسادات ہوں گے ان کی ذمہ داری حکومت پر بھی ہو گی۔جس زمانہ میں سرمائیکل اڈوائر گورنر تھے اس وقت سے میں یہ بات پیش کر رہا ہوں کہ ایجی ٹیشن سے دبنا ملک میں فسادات کا موجب ہے۔بعض لوگ حکومت کے پاس ایک معقول شکایت لے کر جاتے ہیں مگر وہ جواب دیتی ہے کہ اس کے متعلق تو کوئی ایجی ٹیشن نہیں۔اس صورت میں ان لوگوں کے لئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ پہلے جا کر ایجی ٹیشن کرائیں۔حالانکہ اگر بات معقول ہو تو حکومت کو چاہیے کہ اسے پہلے ہی مان لے اور اس کے متعلق ایجی ٹیشن کا انتظار نہ کرے۔ہمارے پاس یہ قیاس کرنے کے وجوہ ہیں کہ یہاں جو انتظام ہوا وہ لوکل حکام کی طرف سے نہ تھا بلکہ بالا افسران کے مشورہ سے ہوا۔ممکن ہے یہ خیال غلط ہو مگر ہمارے پاس اس کے وجوہ ہیں۔اس صورت میں حکومت کو یہاں اتنی کافی پولیس بھی بھیجنی چاہیے تھی جو انتظام کر سکتی اور اس کے حکام کے احکام کی تعمیل کر اسکتی۔جلوس میں ہزاروں لوگ ٹکوے، تلواریں اور لاٹھیاں ہوا میں لہرا رہے تھے جس کے معنے یہ تھے کہ ہم چیلنج کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ایسی حالت میں 25 یا 50 پولیس مین ان کا کیا مقابلہ کر سکتے تھے۔یا پھر یہ چاہئے تھا کہ ام حکم ہی وہ دیتے جو منوا سکتے۔احکام دے کر ان کی تعمیل نہ کر اسکنے کے یہ معنے ہیں کہ کچھ لوگ تو یہ سمجھیں کہ حکومت کمزور ہے اور وہ اپنی بات کو منوا نہیں سکتی اور کچھ لوگوں میں یہ احساس پیدا ہو کہ اگر حکومت سے کوئی بات منوانی ہو تو اسے لٹھ دکھانا چاہیئے۔اور ایسے خیالات حکومت اور ملک دونوں کے لئے مضر ہیں بلکہ حکومت کی نسبت یہ خیالات ملک کے لئے زیادہ حکام wwwwwww