خطبات محمود (جلد 21) — Page 408
$1940 407 خطبات محمود ان کے اخراجات جلسہ سے زیادہ ہو اور صرف چند آدمی ایسے ہوتے ہیں جو غیر معمولی طور پر زیادہ چندہ دے دیتے ہیں۔ان کے علاوہ بالعموم جماعتیں اس چندہ کی طرف توجہ نہیں کرتیں اور افراد بھی اس میں بہت کم حصہ لیتے ہیں۔پس آج میں تمام جماعتوں کو بالخصوص قادیان والوں کو اس امر کی طرف توجہ دلا تا ہوں کہ ان کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے۔ہم لوگ میزبان ہیں اور باہر سے آنے والے مہمان ہیں۔پس ہم پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہے۔کئی موقعوں پر لوگوں کے گھروں میں مہمان آجاتے ہیں اس وقت وہ جانتے ہیں کہ انہیں اپنے مہمانوں کے لئے کتنے بوجھ اٹھانے پڑتے ہیں۔اسی طرح شادیوں کے موقع پر یا جب کوئی بچہ پید اہو یا کسی کی وفات ہو جائے تو دس دس، پندرہ پندرہ، بیس بیس مہمان آجاتے ہیں اور لوگ خوشی سے اس بوجھ کو برداشت کرتے ہیں۔اگر ایک بڑھیا فاقوں مر رہی ہو اور اس کے پھٹے پرانے کپڑے ہوں اور اتفاقاً اس کا داماد آجائے تو وہ یہ نہیں کہتی کہ اب میں اپنے داماد کو کہاں سے کھلاؤں بلکہ چاہے وہ قرضہ اٹھائے، چاہے اپنی کوئی چیز فروخت کرے یا گروی رکھے اخراجات ضرور برداشت کرتی ہے۔تو اگر ذمہ داری کا وہ احساس جو ہر غریب کو بھی ہوتا ہے اس سے نصف احساس بھی ہماری جماعت کے دلوں میں پیدا ہو جائے تو وہ کئی گنے زیادہ اس چندہ میں حصہ لے سکتی ہے۔قادیان کے لوگوں کے متعلق عام طور پر یہ شکایت پائی جاتی ہے کہ وہ جلسہ سالانہ کے دنوں میں اپنے کھانے کا بوجھ بھی سلسلہ پر ڈال دیتے ہیں اور اگر جلسہ سالانہ کے مہمانوں پر ہیں پچیس ہزار کے قریب روپیہ خرچ آتا ہے تو اس میں سے چار پانچ ہزار کے قریب قادیان والوں پر خرچ ہو جاتا ہے۔اگر قادیان کے تمام لوگ اپنے کھانے کا گھروں میں انتظام کریں تو جلسہ سالانہ کے اخراجات سولہ سترہ ہزار میں پورے ہو سکتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ بات درست ہے مگر اس میں بہت سی دقتیں اور مشکلات حائل ہیں۔ان دنوں سارے آدمی کام پر لگے ہوئے ہوتے ہیں۔مرد بھی اور عور تیں بھی اور اس وجہ سے گھروں میں کھانے کا انتظام نہیں ہو سکتا۔ہم نے کئی دفعہ چاہا ہے کہ اس بات کی سختی سے پابندی کی جائے کہ قادیان کے رہنے والے اپنے کھانے کا اپنے گھروں میں خود انتظام کریں مگر جب