خطبات محمود (جلد 21) — Page 396
$1940 395 خطبات محمود یا بد دیانتی نہ کر رہا ہو مگر مشکل یہ ہے کہ ہمارے بعض مخالف سنجید گی اور شرافت کے ساتھ بات نہیں کرتے اور پھر جو حوالے پیش کرتے ہیں ان میں بھی دیانت سے کام نہیں لیا جاتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کچھ لکھا ہوتا ہے اور وہ کسی اور رنگ میں اسے پیش کر رہے ہوتے ہیں۔اگر وہ شرافت کے ساتھ اپنے عقائد کو پیش کریں تو ہم ان کی باتیں خوشی کے ساتھ سننے کو تیار ہیں۔قادیان میں ایک دفعہ آریوں کے جلسہ پر دیانند کالج کے ایک پروفیسر صاحب آئے۔ان دنوں میں اسی مسجد اقصیٰ میں درس دیا کرتا تھا۔جلسہ سے فارغ ہو کر مجھے ملنے کے لئے اسی مسجد میں آگئے۔میں نے ان سے کہا کہ قادیان ایسا مقام ہے جس میں ہماری تعداد دوسروں کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہے۔پس یہاں آپ کا آنا اسی صورت میں فائدہ بخش ہو سکتا تھا جب آپ اپنے خیالات سے ہمیں آگاہ کرتے ورنہ آپ کے اپنے آدمی تو جانتے ہی ہیں کہ آپ کے کیا عقائد ہیں اور ان عقائد کے کیا دلائل ہیں۔اگر یہاں آکر بھی آپ نے اپنے آدمیوں کے سامنے ہی ایک تقریر کر دی تو اس کا کیا فائدہ ہوا۔فائدہ تو تب ہو تاجب آپ ہمیں بتاتے کہ آپ کے مذاہب کی کیا تعلیم ہے؟ وہ کہنے لگے بات تو ٹھیک ہے مگر میں نے سمجھا کہ آپ اپنے آدمیوں کو ہماری باتیں سننے کے لئے کب اکٹھا کر سکتے ہیں ؟ میں نے ان سے کہا یہ غلط ہے۔مسجد ہمارا سب سے مقدس مقام ہوتا ہے اور پھر یہ مسجد تو وہ ہے جسے ہم مسجد اقصیٰ قرار دیتے ہیں۔آپ آئیں اور اس مسجد میں تقریر کریں۔میں اپنی جماعت کے دوستوں سے کہوں گا کہ وہ آپ کی تقریر کو سنیں۔چنانچہ اس مسجد میں دیا نند کالج کے پروفیسر صاحب نے تقریر کی اور حافظ روشن علی صاحب مرحوم نے ان سے تبادلۂ خیالات کیا تو خیالات کا تبادلہ بڑی بابرکت چیز ہے۔اگر ہماری جماعت التزام کے ساتھ دوسروں کے خیالات کو سنے، ان کے لٹریچر کو پڑھے اور ان کے دلائل کو معلوم کر کے ان کے جوابات کو جماعت کے ہر فرد کے ذہن میں اچھی طرح راسخ کر دے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کا ہر فرد ایمانی لحاظ سے اتنا مضبوط ہو جائے کہ کوئی شخص اسے ورغلانہ سکے۔اگر خدا تعالیٰ کی ہستی کے متعلق اسے کوئی دھوکا دینا چاہے گا تو وہ فوراً ہوشیار ہو جائے گا اور کہے گا مجھے خوب معلوم ہے کہ تم