خطبات محمود (جلد 21) — Page 389
$1940 388 خطبات محمود لینے سے میں نے انکار کر دیا لیکن اس نے اصرار کیا اور کہا کہ آپ لوگوں کو چاہیے کہ ہماری باتوں کو سنیں اور ٹریکٹ لینے سے انکار نہ کریں۔اس دوست نے لکھا ہے کہ مجھے ایک عام اعلان کے ذریعہ جماعت کے دوستوں کو ایسے لوگوں کا لٹریچر پڑھنے سے روک دینا چاہیئے کیونکہ اس طرح جماعت کا کمزور طبقہ متاثر ہوتا ہے اور خطرہ ہوتا ہے کہ کوئی فتنہ پیدا نہ ہو۔میں اس بارہ میں پہلے بھی اپنے خیالات کا اظہار کر چکا ہوں اور اب پھر کہتا ہوں کہ میرے نزدیک پبلک جگہوں میں یا ایسے مقامات جہاں کسی خاص قوم کو کوئی امتیازی حق حاصل نہ ہو وہاں اس کا کوئی جتھا نہ ہو اور بظاہر امن میں خلل واقع ہونے کا کوئی اندیشہ نہ ہو ہر شخص آزادی کے ساتھ اپنے خیالات کو پھیلانے کا حق رکھتا ہے اور اگر ہم اسے روک دیں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ بیرونی مقامات میں جب ہمارا کوئی احمدی ٹریکٹ وغیرہ تقسیم کرنے لگے اور دوسرے لوگ اسے روک دیں یا ٹریکٹ لینے اور پڑھنے سے انکار کر دیں تو وہ بھی اپنے رویہ میں حق بجانب سمجھے جائیں۔حالانکہ اگر کسی جگہ ہمارا کوئی احمدی اپنے ٹریکٹ تقسیم کرتا ہے اور لینے والا نہیں لیتا تو یہ امر اس کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے مگر بہر حال ہم غیروں کو اپنے ٹریکٹ دیتے ہیں اور جب دیتے ہیں تو جو حق ہمیں حاصل ہے وہی حق دوسروں کو بھی حاصل ہونا چاہیئے۔مذہب دنیا میں امن پیدا کرنے کے لئے آتے ہیں فساد پیدا کرنے کے لئے نہیں آتے اور اگر ہم ایک سچے مذہب پر قائم ہیں تو لازماً ہمیں دنیا کو وہ حریت اور آزادی دینی ہو گی جس کے بغیر دنیا کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔یہ تو لینے والے کا اختیار ہے کہ وہ چاہے تو لے اور چاہے تو نہ لے۔مثلاً فرض کرو کسی کے ہاتھ میں پہلے ہی بہت سی کتابیں ہوں یا اور کوئی سامان اس نے اٹھایا ہوا ہو تو وہ کہہ سکتا ہے کہ میں اس وقت نہیں لے سکتا۔یا ممکن ہے وہ ٹریکٹ اس نے پڑھا ہوا ہو تو اس صورت میں بھی وہ کہہ سکتا ہے کہ مجھے اس ٹریکٹ کی ضرورت نہیں۔اسی طرح اگر اسے پڑھنے کی فرصت ہی نہیں تو اس عذر کی بناء پر بھی وہ کوئی ٹریکٹ لینے سے انکار کر سکتا ہے لیکن اگر دینے والا دیتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ دوسرا شخص غلطی پر ہے اور میر افرض ہے کہ میں اس کی اصلاح کروں تو اگر دیانتداری کے ساتھ اس کی نیت اسی حد تک ہے اور وہ دوسرے کی خیر خواہی و اصلاح کے جذبہ کے ماتحت اپنا کوئی ٹریکٹ دوسرے کو پڑھنے کے لئے دیتا ہے