خطبات محمود (جلد 21) — Page 388
$1940 387 خطبات محمود ہمیں اپنی برکتوں سے پھر بھی حصہ دے اور اپنی روحانی نعمتوں سے ہمیں پھر بھی مالا مال کرے مگر کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے رمضان کا استقبال نہیں کیا تھا اور نہ انہوں نے اس کی برکات سے کوئی فائدہ اٹھایا۔وہ بھی آج اس مہینہ کو رخصت کرنے کے لئے آئے ہوئے ہیں مگر ان کا آنا بالفاظ دیگر اس لئے ہے کہ وہ رمضان سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہوا جو تم جا رہے ہو۔تمہارے آنے کی وجہ سے ہم ایک مصیبت میں پھنس گئے تھے اور ہمیں خواہ مخواہ لوگوں کی شرمندگی سے بچنے کے لئے بھو کا اور پیاسا رہنا پڑتا تھا اب اچھا ہوا جو تم جارہے ہو اور ہمیں اس بلا سے نجات ملی۔دونوں قسم کے لوگ اپنی اپنی نیتوں کے مطابق پھل کھالیں گے۔وہ جس نے رمضان کو پایا اور اس کی برکات سے اس نے پورا پورا فائدہ اٹھایا اس کا وداع برکت والا وداع ہے اور وہ ایسا ہی وداع ہے جیسے ایک دوسرے دوست کو الوداع کہتا ہے اس کا وداع اس لئے نہیں ہوتا کہ وہ اپنے دوست سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے بلکہ وہ اس لئے اسے وداع کرنے جاتا ہے تا اس کا دوست اس پر پھر بھی مہربان رہے اور وہ پھر بھی اس کے پاس آتا رہے۔مگر وہ جنہوں نے رمضان سے تو کوئی فائدہ نہیں اٹھایا مگر آج اسے وداع کرنے کے لئے آگئے ہیں ان کے وداع کے معنے یہ ہیں کہ اچھا ہوا جو تجھ سے چھٹکارا حاصل ہوا۔ان دونوں قسم کے آدمیوں کو ان کی نیتوں کے مطابق بدلہ ملے گا۔وہ جو پہلا گر وہ ہے جس نے رمضان سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور جو محبت اور اخلاص کے جذبات کے ساتھ اسے وداع کرنے کے لئے آیا اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس کے لئے دعا کریں گے اور کہیں گے خدا تجھے اور بھی کئی رمضان نصیب کرے اور تجھے توفیق دے کہ تو اس کی برکتوں سے فائدہ حاصل کرے مگر وہ جو آج رمضان کو اس نیت سے الوداع کرنے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں کہ انہیں ایک مصیبت سے نجات ملی ان کو آج کی نماز کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی کیونکہ وہ رمضان کی عزت کرنے نہیں بلکہ اس کی ہتک کرنے آئے ہیں۔اس کے بعد میں ایک اور امر کی طرف جماعت کے دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں یہ کہ چند دن ہوئے ہماری جماعت کے ایک دوست نے مجھے ایک خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا کہ میں بازار میں سے گزر رہا تھا کہ مجھے ایک مخالف شخص نے کچھ ٹریکٹ دینے چاہے جن کے اور وہ یہ