خطبات محمود (جلد 21) — Page 360
$1940 359 خطبات محمود ایسا شخص بھی ہو سکتا ہے جو وہ دعا مانگنے کے لئے تیار نہ ہو کیونکہ اگر کوئی شخص ایسا ہے جو یہ خیال کرتا ہے کہ اسلام اگر تباہ ہوتا ہے تو ہو جائے، احمدیت کے مٹنے کا اگر امکان ہے تو بے شک وہ مٹ جائے مجھے اس کی پرواہ نہیں تو وہ احمدی ہی نہیں اور نہ ایسے شخص کا احمدی کہلانا اپنے اندر کوئی حقیقت رکھتا ہے۔پس میں یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ ہماری جماعت میں سے کوئی شخص ایسا ہو سکتا ہے جو اسلام اور احمدیت کے لئے بھی دعا مانگنے کے لئے تیار نہ ہو۔اسی طرح انسان کی خود غرضی کو دیکھتے ہوئے میں یہ امید بھی نہیں کر سکتا کہ کوئی شخص یہ کہے کہ ہندوستان اگر تباہ ہو تا ہے تو بے شک ہو جائے مجھے اس کی پرواہ نہیں۔پس ان معاملات کے متعلق میں یہ نہیں کہتا کہ اگر تم مجھ سے متفق ہو تو دعا کرو کیونکہ ان امور کے متعلق اس لئے نہیں کہ میں حکم دیتا ہوں اور تم میر ا حکم ماننے پر مجبور ہو بلکہ اس لئے کہ یہ دعا خود بخود تمہارے دل سے نکل رہی ہو گی۔(اور اگر تم میں اتنی عقل و خرد بھی نہیں کہ تم اسلام اور احمدیت اور اپنے ملک کے مفاد کو سمجھ سکو تو پھر تم میرے مخاطب نہیں بلکہ ایسی حالت میں تم کسی کے بھی مخاطب نہیں ہو سکتے۔نہ میرے ، نہ خدا اور اس کے رسول کے کیونکہ خدا بھی انسان کو اسی وقت مخاطب کرتا ہے جب اس کے اندر عقل موجود ہو) لیکن دوسرے حصہ کے متعلق میں کہتا ہوں کہ اگر تم مجھ سے متفق ہو تو یہ دعا بھی کرو کہ اللہ تعالی انگریزی قوم کو موجودہ مصیبت سے نجات دے۔ممکن ہے بعض سیاسی نقطۂ نگاہ سے یہ خیال کرتے ہوں کہ انگریزوں کی شکست اس وقت ہندوستان کے لئے مفید ہے اور گو میں انہیں غلطی پر ہی سمجھوں گا مگر میں ان سے یہ نہیں کہوں گا کہ وہ برطانیہ کی کامیابی کے لئے دعا کریں کیونکہ کسی کے منہ کی دعا خدا تک نہیں پہنچ سکتی جب تک دل کا درد اس کے ساتھ شامل نہ ہو اور میں یہ تماشا نہیں کرانا چاہتا کہ کسی کا دل تو برطانیہ کی کامیابی کو نہ چاہے اور منہ سے وہ اسکی کامیابی کے لئے دعا کر رہا ہو۔مگر جو اس بارہ میں مجھ سے متفق ہوں ان سے میں کہتا ہوں کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ احمدیت کی اشاعت انگریزوں کی حکومت میں زیادہ عمدگی کے ساتھ ہو سکتی ہے تو ان کا فرض ہے کہ وہ برطانیہ کی کامیابی کے لئے دعا کریں۔اس قسم کی حکومتیں اور بھی ہیں یہ نہیں کہ انگریز ہم سے کوئی خاص