خطبات محمود (جلد 21) — Page 337
$1940 336 خطبات محمود ناظر امور عامہ کی بیوی ہے یا ناظر امور خارجہ کی بیوی ہے یا ناظر ضیافت کی بیوی ہے یا ناظر بیت المال کی بیوی ہے یا ناظر تعلیم و تربیت کی بیوی ہے یا ناظر اعلیٰ کی بیوی ہے اس کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ دوسروں پر رعب جتائے۔وہ جماعت کا ایک ویسا ہی فرد ہے جیسے کوئی معمولی سے معمولی شخص کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو بعض لوگوں کو حکومت اور رتبہ دیا ہے وہ کام کے لحاظ سے دیا ہے اور ان سے تعلق رکھنے والوں کو یہ قطعا حق حاصل نہیں کہ وہ ان کے رتبہ سے ناجائز فائدہ اٹھا کر لوگوں پر اپنی حکومت جتانی شروع کر دیں۔(الفضل 27 جولائی (*1960 میری جب وصیت شائع ہوئی تو بعض انگریزی اخبارات کے نمائندے مجھ سے ملنے کے لئے آئے۔ان کے آنے کی بڑی غرض یہ تھی کہ وہ مجھ سے یہ کہلوانا چاہتے تھے کہ میرے بعد یا تو چوہدری ظفر اللہ خان صاحب خلیفہ ہوں گے یا میرا بیٹا ناصر احمد۔وہ بار بار ادھر ادھر کی باتیں کر کے پھر یہی سوال میرے سامنے پیش کر دیتے اور کہتے کہ آپ کے بعد کون خلیفہ ہو گا؟ کیا چوہدری ظفر اللہ خان ہوں گے یا ناصر احمد ؟ میں نے انہیں کہا کہ خلافت تو خدا تعالیٰ کی ایک دین ہے۔اس میں چوہدری ظفر اللہ خان اور ناصر احمد کا ویسا ہی حق ہے جیسے ایک نو مسلم چوہڑے کا۔میں نے انہیں کہا کہ مجھے کیا معلوم اللہ تعالیٰ میرے بعد یہ مرتبہ کس کو دے گا۔کسی بڑے آدمی کو یا ایک معمولی اور حقیر نظر آنے والے انسان کو۔مگر وہ دنیا داری کے لحاظ سے سمجھتے تھے کہ میرے بعد خلافت کے اہل یا تو چوہدری ظفر اللہ خان ہیں یا ناصر احمد۔چنانچہ چکر کھا کر وہ پھر یہی سوال کر دیتے کہ اچھا تو پھر آپ کے بعد کیا صورت ہو گی ؟ مگر میں انہیں یہی کہتا رہا کہ مجھے کچھ علم نہیں اللہ تعالیٰ میرے بعد یہ نعمت کس کو عطا کرے گا۔آخر انہیں میرے جوابوں سے اتنی مایوسی ہوئی کہ انہوں نے ملاقات کا ذکر شائع کرتے وقت اس سوال کو ہی اڑا دیا۔ایک اخبار والے نے تو میرے ساتھ اس سوال پر بڑی بحث کی اور کہا کہ آخر کچھ تو کہیں۔میں نے کہا میں اس بارہ میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔پھر میں نے انہیں بتایا کہ حضرت خلیفہ اول جب فوت ہوئے اور جماعت میں خلافت کے متعلق جھگڑ اشروع ہوا تو بعض لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید میں نے اپنی خلافت کے لئے یہ جھگڑا کھڑا کر رکھا۔