خطبات محمود (جلد 21) — Page 303
$1940 302 خطبات محمود مثالیں پیش کرنی چاہئیں۔پس میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس بات کو ہمیشہ مد نظر رکھیں کہ تحریک جدید کے چندے طوعی ہیں اس لئے ان کو پورا کرنے کے لئے ان کو پوری کوشش کرنی چاہیئے اور اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ اگر انہیں اس قربانی کی توفیق نہیں ملتی تو اس کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان کی پہلی قربانیوں کو بھی قبول نہیں کیا اور نہ آج ان سے سستی سر زدنہ ہوتی۔سستی کے معنے ہی یہ ہیں کہ پہلے عمل ضائع ہو چکے۔پس میں پھر توجہ دلاتا ہوں کہ دوست سستی اور غفلت کو ترک کر دیں کیونکہ اس سے ان کی پہلے سالوں کی قربانیاں بھی ضائع ہو جائیں گی۔یہ تو زمانہ اس قسم کا ہے کہ انسان کے سامنے سے ایک منٹ کے لئے بھی موت او جھل نہیں ہونی چاہیئے۔میں ابھی لاہور سے آرہا ہوں وہاں ہوائی جہازوں کے لئے لوگوں میں چندہ کی تحریک کرنے کے لئے ہوائی جہازوں نے اشتہار پھینکے جن میں لکھا تھا کہ ممکن تھا اس اشتہار کی جگہ جو تم اٹھا رہے ہو بم گرتا جو جرمن یا روسیوں کا ہوتا۔غور کرو اگر ایسا ہو تا تو تمہاری کیا حالت ہوتی۔اس لئے اس وقت کی اہمیت کو پہچانیں اور جلد چندہ دیں تا اس سے ہوائی جہاز شہر کی حفاظت کے لئے خریدے جائیں۔اب دنیا میں فاصلہ کا سوال بالکل مٹ چکا ہے۔ہوائی جہاز دو دو تین تین ہزار میل پر جاکر حملہ کرتے ہیں اور پھر واپس آ جاتے ہیں اور دشمنوں کو ایسے مواقع حاصل ہیں کہ اگر چاہیں تو ہندوستان پر حملہ کر دیں۔گو ابھی کیا نہیں مگر ہندوستان میں شدید خطرہ محسوس ہو رہا ہے۔اُدھر چین میں اور جاپان میں جنگ شروع ہے۔امریکہ الگ کھڑا رہا ہے اور یورپ میں تو جنگ ہو ہی رہی ہے۔ہر طرف خطرات ہی خطرات ہیں اور خطرات بھی ایسے کہ بہادری سے ان کا مقابلہ کرنے کا کوئی موقع نہیں اور کوئی شخص سینہ تان کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ آئے کون میرے مقابلہ پر آتا ہے۔ہوائی جہاز اوپر سے حملہ کرتے ہیں اور بعض اوقات نظر بھی نہیں آتے۔وہ تیس تیس ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہے ہوتے ہیں۔چیل نظر آتی ہے مگر جہاز نہیں۔صرف بم گرتے ہیں اور جب موت اس قدر قریب ہو تو مومن اگر اپنی ذمہ داری کو نہ سمجھے تو بہت افسوس کا مقام ہے۔پس میں احباب جماعت کو توجہ دلا تا ہوں کہ