خطبات محمود (جلد 21) — Page 260
$1940 259 خطبات محمود ہمیشہ ہی بتانے سے انکار کیا اور یہی کہتے رہے کہ یہ میرے محبوب کا راز ہے جو میں ظاہر نہیں کر سکتا۔چنانچہ جب صحابہ نے یہ پتہ لگانا ہو تا کہ کون منافق ہے تا اس کا جنازہ نہ پڑھیں تو وہ دیکھ لیتے کہ حذیفہ نے اس کا جنازہ موقع ملنے کے باوجود پڑھا ہے یا نہیں۔جس کا جنازہ وہ نہ پڑھتے صحابہ بھی نہیں پڑھتے تھے۔2 دراصل منافقوں کے نام کا اخفاء ان کے ایمان کی حفاظت کے پیش نظر ہوتا ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص آج منافق ہو مگر بعد میں اس کی حالت درست ہو جائے۔انسان کے دل کی کیفیت ہمیشہ یکساں نہیں رہتی۔عین ممکن ہے کہ کوئی منافق بعد میں درست ہو جائے۔اس لئے ان کے نام کا اظہار مناسب نہیں ہوتا۔پھر یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اکثر منافقوں کا علم غیر فریق کو ہوتا ہے اپنوں کو نہیں۔منافق کے تو معنے ہی یہ ہوتے ہیں کہ ایک جماعت میں شامل رہتے ہوئے اس کے مخالفوں سے پوشیدہ تعلقات رکھے۔اس لئے ہم میں جو منافق ہیں ان میں سے اکثر کا پتہ ہمارے دشمن کو ہی ہو سکتا ہے۔ہمیں کیا پتہ ہو سکتا ہے ؟ پس اگر وہ منافقین کو چن لیں تو ہم کو ان کا کیا علم ہو سکتا ہے یہ تو ان کو ہی پتہ ہو سکتا ہے کیونکہ انہی سے مخفی تعلقات کا نام تو نفاق ہے۔بے شک مجھے بعض کا علم ہے مگر شریعت مجھے اس کی اجازت نہیں دیتی کہ ان کی ہدایت کے تمام ذرائع استعمال کئے بغیر ان کے نام کا اظہار کر دوں۔کیونکہ کئی جو آج منافق ہیں ہو سکتا ہے کل درست ہو جائیں۔اس لئے اگر مجھے علم ہو تو بھی مجھے ان کے ناموں کے اظہار کی اجازت نہیں، نہ آنحضرت صلی اللہ کریم نے ان کے نام ظاہر کئے ، نہ صحابہ نے اور نہ میں کر سکتا ہوں۔جب تک کہ وہ خود جماعت کے مقابل پر کھڑے ہو کر ظاہر نہ ہو جائیں۔میں خود ان کو ظاہر کر کے انہیں مخالفوں کی صف میں کیوں کھڑا کروں اور ان کی ہدایت کے امکانات کیوں ختم کر دوں ؟ حدیث میں آتا ہے کہ ایک روز آنحضرت صلی الی یوم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں بیٹھے ہوئے ایک شخص کے متعلق ذکر کر رہے تھے کہ وہ ایسا بُرا ہے، اس نے یہ خرابی کی یہ کی۔اتنے میں وہی شخص آگیا آپ نے اٹھ کر دروازہ کھولا، اسے بٹھایا اور اس سے باتیں کرنے لگے۔حضرت عائشہ نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ بھی ایسا کرتے ہیں ؟ ابھی تو