خطبات محمود (جلد 21) — Page 259
$1940 258 خطبات محمود اور اس کے خلاف کوئی نیا قاعدہ تجویز کرنے کے نہ مولوی محمد علی صاحب مجاز ہیں اور نہ میں۔یہی طریق پہلے تھا اور یہی طریق اب ہے۔اس کے سوا کوئی طریق اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ہاں اگر اس بورڈ سے مولوی صاحب کا یہ مطلب ہے کہ وہ انتظامی معاملات کا فیصلہ کرے۔وقت کی تعیین، مجلس مناظرہ میں شرکت کے لئے موزوں اشخاص کو ٹکٹ دینا وغیرہ وغیرہ اور اس کی متعلقہ شرائط کی پابندی کرانا، تو یہ نہایت ضروری ہے اور ایسا بورڈ ضرور ہونا چاہیئے۔دنیوی اور انتظامی امور میں ہم اس کی بات کو پوری طرح تسلیم کریں گے یا ایسے امور میں اس کا فیصلہ مان لیں گے جن کا ہمارے یا کسی اور کے دین پر کوئی اثر نہیں پڑتا مگر عقائد کے بارہ میں اس کے فیصلہ کو نہیں مان سکتے۔مولوی محمد علی صاحب نے اس بورڈ کا طریق انتخاب جو پیش کیا ہے اس کے متعلق میں نے ہمیشہ یہ جواب دیا ہے کہ یہ غیر طبعی ہے۔ایسے لوگوں کا انتخاب اپنی اپنی طرف سے ہونا چاہیئے۔یہ نہیں کہ ہماری جماعت میں سے وہ منتخب کریں اور ان کی جماعت میں سے ہم۔بلکہ ہم اپنے آدمی منتخب کریں اور وہ اپنے۔ان کی طرف سے یہ شرط ہیں سال سے زائد عرصہ سے پیش ہو رہی ہے اور اسے پیش کر کے وہ سمجھتے ہیں کہ گویا بڑا تیر مارا ہے اور میں نے ہمیشہ اس کا جواب دیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ ہم میں سے منافق چن لیں اس کا جواب وہ یہ دیا کرتے ہیں کہ جن کو ہم منافق کہہ دیں گے ان کو وہ چھوڑ دیں گے مگر میں اس طرح منافقوں کا اظہار کر کے ان کے ہاتھ میں ایک ہتھیار کیوں دوں۔ہم میں جو منافق ہیں ان کو نکال کر وہ اب تک اپنے ساتھ تو شامل نہیں کر سکے مگر چاہتے ہیں کہ ہم اپنوں میں سے بعض کو منافق کہہ کر ان کے ہاتھ میں ایک ہتھیار دے دیں مگر وہ یادرکھیں کہ ایسے لوگوں کے ذریعہ وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ایسے لوگ کسی کام نہیں آیا کرتے۔اب تک جتنے لوگ ہم میں سے نکلے ہیں مثلاً مستری اور مصری پارٹی وغیرہ ان میں سے کتنوں نے ان کو فائدہ دیا ہے؟ یہ بات کہ ہم خود کہہ دیں کہ فلاں منافق ہے بالکل فضول ہے۔یہ میں نہیں کر سکتا۔اس معاملہ میں میں کتنا ہی دلیر کیوں نہ ہوں محمد رسول اللہ صلی علیم سے تو زیادہ دیر نہیں ہو سکتا۔آپ نے مدینہ کے منافقوں کے نام حذیفہ بن الیمان کو مخفی طور پر بتائے تھے اور صحابہ ہمیشہ ان سے پوچھتے رہے مگر انہوں نے