خطبات محمود (جلد 21) — Page 207
1940 207 خطبات محمود بھی نہیں اٹھانا چاہیئے مگر مسلمان مولویوں کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ گاندھی جی کی تعلیم اسلام کے خلاف ہے یا اس کے مطابق بلکہ انہوں نے جب دیکھا کہ ہندوستان میں “ اہنسا اہنسا کا شور مچ رہا ہے تو انہوں نے بھی کہنا شروع کر دیا کہ جہاد کسی صورت میں جائز نہیں۔حالانکہ ایک وقت وہ تھا جب یہی علماء یہ کہا کرتے تھے کہ کوئی وقت بھی ایسا نہیں ہو تاجب جہاد لوگوں پر واجب نہ ہو مگر دوسر اوقت انہی علماء پر ایسا آیا کہ انہوں نے کہہ دیا جہاد کسی وقت بھی جائز نہیں ہو تا۔حالانکہ یہ دونوں ایسی خطرناک باتیں ہیں کہ جن کے ماتحت مسلمان کہلانے والوں نے رسول کریم صلی ایم کی آدھی زندگی بالکل کچل کر رکھ دی ہے۔اگر جہاد ہر وقت فرض ہو تا ہے تو محمدصلی للی نیم کی مکی زندگی قابل اعتراض ٹھہرتی ہے اور اگر جہاد کسی وقت بھی علوم فرض نہیں ہو تا تو محمد صلی علیم کی مدنی زندگی پر اعتراض وارد ہوتا ہے۔غرض جس طرح بعض لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ انہوں نے الہی کتاب کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔2۔اسی طرح انہوں نے محمد صلی للی نیم پر حملہ کر کے آپ کی پاک اور مطہر زندگی کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔کبھی کہہ دیا کہ جہاد ہر وقت فرض ہوتا ہے اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ جہاد بعض شرائط کے ساتھ مشروط ہوتا ہے اور کوئی وقت ایسا بھی آسکتا ہے جب جہاد کرنا جائز نہ ہو وہ کافر اور اسلام سے خارج ہے۔گویا ان کے نزدیک محمد صلی اللی علم کی مکی زندگی قابل اعتراض تھی اور وہ نَعُوذُ باللہ خدا تعالیٰ کے منشاء کے خلاف گزری۔اور کبھی گاندھی جی کے اثر کے ماتحت کہہ دیا کہ “انسا ” اور عدم تشد دہی اصل چیز ہے۔گو یار سول کریم صلی ا لم کی مدنی زندگی نَعُوذُ باللہ گناہوں سے ملوث تھی۔غرض ان لوگوں نے رسول کریم صلی کم کی روحانی زندگی کے دو ٹکڑے کر دیئے اور کبھی ایک کو قبول کر لیا اور دوسرے کو پھینک دیا اور کبھی دوسرے کو قبول کر لیا اور پہلے کو پھینک دیا۔حالانکہ وسطی طریق وہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش فرمایا کہ یہ جہاد بعض شرائط کے ساتھ مشروط ہوتا ہے جب وہ شرائط پائی جائیں تو اس وقت جہاد کرنا ضروری ہوتا ہے اور جو جہاد نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کے حضور گنہگار ہوتا ہے لیکن بعض زمانوں میں جب وہ شرائط مفقود ہوں یہ جہاد نا جائز ہوتا ہے اور اس وقت جو شخص جہاد کرتا ہے