خطبات محمود (جلد 21) — Page 190
خطبات محمود 190 $1940 دراصل انسان کی یہ عادت ہے کہ خوشی چاہے چھوٹی ہی ہو وہ اسے وسیع طور پر منانے کی کوشش کرتا ہے۔اس عادت کے مطابق ہماری جماعت کے دوستوں کو بھی جب کسی الہام کے پورا ہونے سے خوشی ہوتی ہے تو وہ کوشش کرتے ہیں کہ سارے الہامات گھسیٹ کر اسی ایک واقعہ پر چسپاں کر دیں۔حالانکہ بسا اوقات وہ الہامات اتنے عظیم الشان ہوتے ہیں کہ جن واقعات پر ہماری جماعت کے دوست ان کو چسپاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی الہامات کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔پس بڑے بڑے ابتلاء آنے والے ہیں کیونکہ ہماری جماعت کے سپر د اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑا کام کیا گیا ہے۔ان حالات میں ہماری جماعت کے دوستوں کو محض اس بات پر خوش نہیں ہو جانا چاہیئے کہ ہمارے لئے پھولوں کی سیج بچھی ہوئی ہے اور ہم اسی پر چلتے جائیں گے تکالیف ہمارے سامنے کبھی نہیں آئیں گی کیونکہ یہ بات اللہ تعالیٰ کی سنت کے خلاف ہے۔مومن ہمیشہ مشکلات کو دیکھا کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سینکڑوں الہامات اس بارے میں موجود ہیں۔میں نے بھی بیسیوں رویا و کشوف دیکھے ہیں جن میں جماعت پر کئی قسم کے ابتلاؤں کے آنے کا ذکر ہے۔اسی طرح جماعت کے اور بہت سے دوستوں نے خوابیں دیکھی ہوئی ہیں اور یہ ساری باتیں بے معنی نہیں بلکہ اپنے وقت پر پوری ہونے والی ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جماعت احمدیہ کے لئے ترقی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جیسے پہلی جماعتوں پر ابتلاء آئے اسی طرح ہماری جماعت پر بھی آئیں گے اور اسے بھی ان ابتلاؤں کی آگ میں سے گزرنا پڑے گا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ صاف طور پر فرماتا ہے أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا اَنْ تَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ - 3 کہ کیا کوئی مذہبی جماعت ہے جو یہ خیال کرتی ہو کہ وہ ہمیشہ امن میں رہے گی وَهُمْ لا يُفْتَنُونَ اور اللہ تعالیٰ اسے فتنوں اور عذابوں میں نہیں ڈالے گا؟ فرماتا ہے یہ بات غلط ہے نہ پہلے کبھی ایسا ہوا اور نہ آئندہ کبھی ایسا ہو سکتا ہے۔پھر یہ صرف قرآن نے ایک قاعدہ کلیہ کے رنگ میں ہی بات بیان نہیں کی بلکہ حضرت موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی یہ الہام ہوا ہے۔4