خطبات محمود (جلد 21) — Page 160
1940 160 خطبات محمود خرابیوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے جو اس قسم کی غلط خبروں کی اشاعت سے پیدا ہو گئی ہیں۔اگر بعض لوگوں میں یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ انگریزی طاقت کمزور ہو چکی ہے اور اگر ملک میں اندر ہی اندر ملکی امن برباد کرنے کے لئے سازشیں ہو رہی ہیں تو وہ قوم سخت بے وقوف ہو گی جو اس کے مقابلہ کے لئے تیار نہ ہو۔ان کو ذہنی طور اس بات کے لئے تیار رہنا چاہیے کہ اگر کسی وقت کوئی ایسا خطرہ رو نما ہو تو وہ اس کا پورے زور سے مقابلہ کریں گے۔پچھلی جنگ میں بھی ایسا ہوا تھا۔چنانچہ جھنگ کے ایک آدمی نے جب دیکھا کہ فرانس لڑائی میں مُردہ ہو رہا ہے اور انگریز جرمن کے مقابلہ میں پسپا ہو رہے ہیں تو اس نے اعلان کر دیا کہ میں اپنے علاقہ کا بادشاہ ہوں اور ضلع میں فساد پیدا کر دیا۔اس جنگ میں بھی اس قسم کے واقعات پید اہو سکتے ہیں اور ایسے موقع پر ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ایسے فسادیوں کا مقابلہ کرے۔ہماری جماعت کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیئے کہ مومن بز دل نہیں ہوتا۔مومن کی علامات میں سے ایک علامت یہ ہے کہ ادنیٰ سے ادنی مومن دو کا مقابلہ کرتا ہے اور اگر کوئی زیادہ پختہ مومن ہو تو وہ اکیلا دس کا مقابلہ کر سکتا ہے اور اسلامی تاریخ تو بتاتی ہے کہ ایک مسلمان بعض بعض دفعہ دو دو سو کے مقابلہ میں بھی کھڑا ہوا ہے۔انگریزی حکومت بھی کہتی ہے کہ وہ ہر خطرہ کے موقع پر ہندوستان کی مدد کرے گی اور ہم حکومت کے وعدوں پر یقین رکھتے ہیں اور اس وجہ سے بھی کہ احمدیت کا مرکز ہندوستان میں ہے اور ہماری زیادہ تر جماعت یہیں پائی جاتی ہے میں سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ اس ملک کو طوائف الملو کی میں مبتلا نہیں کرے گا۔تاہم حالات کو چونکہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے اس لئے اگر کسی وقت ہندوستان میں کوئی فساد ہو جائے تو ہماری جماعت کے دوستوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ جو لوگ ان پر حملہ آور ہوں ان کے مقابلہ کے لئے وہ ان سے نصف آدمی کھڑے کریں اس سے زیادہ نہیں۔ممکن ہے جیسے پچھلی جنگ کے موقع پر جھنگ کے ایک شخص نے بادشاہ ہونے کا اعلان کر دیا اسی طرح اور ضلعوں میں بھی ایسے بادشاہ کھڑے ہو جائیں۔ایسی صورت میں جن لوگوں پر حملہ کیا جائے اگر وہ احمدی ہوں تو میں انہیں نصیحت کروں گا کہ وہ کبھی بھی سو کے مقابلہ میں اپنے میں سے ساٹھ آدمی نہ بھیجیں بلکہ سو کے مقابلہ میں پچاس آدمی جائیں اور اگر سو کے مقابلہ