خطبات محمود (جلد 21) — Page 136
خطبات محمود 136 1940 حضرت خلیفہ اول مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کا جو امر تسر کے غزنوی خاندان کے مورث تھے ایک واقعہ سنایا کرتے تھے۔وہ اہلحدیث تھے۔حنفیوں کے بھی ایک بڑے مولوی امر تسر میں تھے۔لوگ ان کو مولوی عبد اللہ صاحب کے پاس بحث کرنے کے لئے لے گئے اور جا کر کہا کہ یہ آپ سے سوال کریں گے آپ جواب دیں۔مولوی عبد اللہ صاحب نے کہا کہ اگر نیت بخیر باشد - حنفی مولوی بھی نیک آدمی تھے مولویانہ رنگ میں لوگوں کے ساتھ چلے گئے تھے۔یہ فقرہ سن کر ان پر اتنا اثر ہوا کہ کہنے لگے میں ان سے بحث نہیں کرتا۔بحث نیت خیر کہاں رہنے دیتی ہے۔تو ان کے اس نیک نیتی کے فقرہ کا ایسا اثر ہوا کہ دوسرے نے بحث سے ہی انکار کر دیا۔پس آپ لوگ بھی تقویٰ سے کام لیں اور کوشش کریں کہ جو فتح حاصل ہو وہ ہماری نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی فتح قرار دے۔ایسی فتح جسے خدا تعالیٰ پھینک دے اور کہے کہ یہ میری فتح نہیں بلکہ شیطان کی ہے کسی کام کی نہیں۔پس ایسے ذرائع استعمال کرو کہ ان کے نتیجہ میں جو فتح ہو وہ خدا تعالی کی ہو اور اس کی خوشنودی کا موجب ہو۔اگر کبھی سختی بھی کرنی پڑے اور کوئی ایسا مسئلہ در پیش ہو کہ اس میں حقیقت کا اظہار مخالف کو ناگوار ہونا لازمی ہو تو بھی الفاظ ایسے استعمال کرو جو کم سے کم برے لگیں۔بعض مسائل ایسے ہیں کہ میں نے دیکھا ہے میں نے بھی جب کبھی ان کو بیان کیا پیغامیوں نے شور مچایا ہے کہ ہمیں گالیاں دی گئی ہیں۔ایک بات وہی ہے جو میں نے گزشتہ خطبہ میں بیان کی تھی کہ مولوی محمد علی صاحب صدرا انجمن سے تنخواہ لے کر قرآن کریم کا ترجمہ کرتے رہے، انجمن کے خرچ پر پہاڑ پر جاتے رہے مگر یہاں سے جاتے ہوئے اس ترجمہ کو ساتھ لے گئے اور اب اس کی فروخت پر حق ملکیت بھی لے رہے ہیں۔بلکہ میں نے سنا ہے کہ اپنے بعد اس حق کی وصیت اپنی بیوی بچوں کے نام کر دی ہے۔یہ ایسی بات ہے کہ اسے کتنے ہی نرم الفاظ میں بیان کیا جائے بہر حال ان کو بُری لگے گی۔مگر ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ نرم الفاظ میں اسے بیان کریں۔ابھی ایک غیر مبائع دوست کی طرف سے مجھے شکایت آئی ہے کہ مولوی ابوالعطاء صاحب نے ہم پر بہت سختی کی ہے۔ابھی مجھے یہ تو پتہ نہیں لگا کہ کیا سختی کی ہے۔انہوں نے