خطبات محمود (جلد 20) — Page 7
خطبات محمود سال ۱۹۳۹ء کہے گا کہ میں خُدا تعالیٰ کو نہیں مانتا۔بظاہر وہ مسلمان نظر آئے گا۔سُبْحَانَ اللہ اور اَلْحَمْدُ لله بھی کہے گا مگر دل میں اللہ تعالیٰ کی ہستی کا بھی قائل نہ ہوگا۔ایسے لوگوں کے ساتھ پہلے بات چیت کر کے ان کا اندرونہ معلوم کرنا چاہئے مثلاً ان کے ساتھ احمدیت کا ذکر شروع کیا اور کہا کہ یہ ہے تو صداقت مگر کئی لوگ اِس کو اِس واسطے نہیں مانتے کہ ان کا خُدا تعالیٰ پر ایمان ہی نہیں ہوتا۔پھر کئی اس واسطے نہیں مانتے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی نبی کی آمد کے قائل نہیں۔کسی کو جماعت کے بعض کاموں پر اعتراض ہے ، اس لئے نہیں مانتا۔پھر کئی سیاسی کی لحاظ سے اس جماعت کو مضر سمجھتے ہیں اس لئے صداقت کو قبول نہیں کرتے اور اس طرح باتیں کی کر کے پہلے اس کا اندرونہ معلوم کرنا چاہئے اور پھر اس کا مرض معلوم کر کے علاج کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور اس طرح صحیح طریق پر تبلیغ کرنی چاہئے۔پھر جو لوگ ان پڑھ ہیں اور زیادہ علمی باتیں نہیں جانتے وہ جہاں تک خود بات چیت کر سکتے ہیں کریں اور پھر زیر تبلیغ اشخاص کو قادیان لے آئیں اور یہاں کسی عالم سے ملا ئیں۔اس کے بعد ا گر وہ لوگ احمدی ہوں گے تو یہ انہی کا کام سمجھا جائے گا۔اس عالم کا نہیں جس نے ان کی تسلی کی۔علماء کا کام وہ سمجھا جائے گا جو وہ رخصت کے ایام میں خاص پروگرام کے ماتحت کریں گے اور جس میں ابتدا بھی ان کی طرف سے ہوگی۔میں اُمید کرتا ہوں کہ قادیان کے عہدہ دار ایسی فہرستیں مکمل کر کے ایک ہفتہ کے اندراندر بھجوا دیں گے۔ایک قسم کی فہرستیں میں پہلے بنوا چکا ہوں جن سے پتہ چلتا ہے کہ پانچ سال سے او پر عمر کے تینتیس سو احمدی مرد یہاں ہیں اور اِس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ پندرہ سال سے بڑی عمر کے قریباً چھپیں سو مرد ہوں گے۔پھر مدارس والے طالب علموں کو بھی شامل کر سکتے ہیں۔ان کے علاوہ منگل ، بھینی ، کھارا ، بسر اوغیرہ دیہات ہیں جو اوپر کی فہرست میں شامل نہیں کی ان کو بھی اگر شامل کر لیا جائے تو چار پانچ ہزار بالغ احمدی مرد قادیان اور اس کے نواحی میں ہوں گے اور اگر یہ سب اپنا فرض ادا کریں تو ایک سال میں تمہیں چالیس ہزار نئے احمدی اسی علاقہ میں بن سکتے ہیں کیونکہ ہر احمدی دو نئے احمدی بنائے تو صرف قادیان کے گر دئو دس ہزار نیا احمدی ہو جاتا ہے۔ان کے بیوی بچوں کو شامل کیا جائے تو تعداد میں چالیس ہزار تک جا پہنچتی ہے۔