خطبات محمود (جلد 20) — Page 67
خطبات محمود ۶۷ سال ۱۹۳۹ء آج تحقیقا تیں کر رہے ہیں۔ہٹلر آج کہتا ہے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو سال کی قبل یہ نکتہ بتا دیا تھا۔ہٹلر نے اپنی تصنیف میں لکھا ہے کہ میں نے قومی ترقی کے ذرائع پر بڑا غور کیا اور آخرمیں اس نتیجہ پر پہنچا کہ قومی ترقی کے اسباب کو تھوڑے سے تھوڑے لفظوں میں بیان کرنا چاہئے جو بار بار لوگوں کے سامنے آتے رہیں اور وہ انہیں بار بار دہراتے رہیں۔اس طرح وہ انسانی دماغ میں جذب ہو جائیں گے لیکن اسلام میں یہ بات پہلے ہی سے موجود ہے۔لَا إِلَهَ إِلَّا الله مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله کیا ہے؟ یہ اسلام کی تعلیم کا خلاصہ ہے۔اسے نمازوں میں اذانوں میں ، اسلام لانے کے وقت غرضیکہ بار بارڈ ہرانے کا حکم ہے اور اس طرح بار بار جو چیز دُہرائی جائے وہ زیادہ سے زیادہ پختہ وہ جاتی ہے۔پس خدام الاحمدیہ کو بھی چاہئے کہ ان کو چھوٹے سے چھوٹے فقروں میں لائیں اور پھر ہر میٹنگ کے موقع پر بار بار ان کو دُہرایا جائے۔مثلاً یہ فقرہ ہو سکتا ہے کہ میں اپنی جان کی اسلامی کی اور ملتی فوائد کے مقابلہ میں کوئی پرواہ نہیں کروں گا۔جب کوئی مجلس ہو ہر شخص باری باری پہلے اِسے دُہرائے اور پھر کام شروع ہو۔اسی طرح جب ختم ہو تو بھی اِسے دُہرایا جائے اور اِس طریق سے یہ بات دماغ میں جذب ہو سکتی ہے۔بعض نادان خیال کر لیتے ہیں کہ قواعد میں کوئی بات رکھ دینا ہی کافی ہوتا ہے اور اس طرح وہ دل میں داخل ہو جاتی ہے۔حالانکہ یہ بات فطرت انسانی کے بالکل خلاف ہے۔اگر ایسا ہو سکتا تو اسلام کی تعلیم کے خلاصہ کے بار بار دُہرائے جانے کا حکم دینے کی کیا ضرورت تھی ؟ پس اس قسم کا کوئی فقرہ بنایا جائے اور ایسا انتظام کیا جائے کہ وہ بار بار دہرایا جا تا رہے مثلاً یہ کہ میں جماعتی اور ملتی ضرورتوں کے مقابلے میں اپنی جان و مال اور کسی چیز کی کوئی پروانہ کروں گا۔اور پھر ایسا انتظام ہو کہ اسے بار بار دہرایا جائے۔ایسے فقروں کو بار بار دہرانے کی سے ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ذہنیتوں میں ایسی تبدیلی ہو جائے گی کہ بعض اوقات مخلصوں میں بھی بغاوت کا جو مادہ پیدا ہو جاتا ہے اُس کا احتمال نہیں رہے گا۔دیکھو اسلام نے لَا إِلهَ إِلَّا الله مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله کو بار بارڈ ہرانے کا جو حکم دیا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کبھی کوئی مسلمان یہ نہیں کہے گا کہ میں خدا کو نہیں مانتا یا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں مانتا۔آپ کو