خطبات محمود (جلد 20) — Page 594
خطبات محمود ۵۹۴ سال ۱۹۳۹ء دے کہ آپ لوگوں کو ۳۱ رمئی تک مہلت دی جاتی ہے۔اس عرصہ تک یا تو اپنے چندوں کو پورا کی کریں اور اگر نام کٹوانا چاہیں تو نام کٹوا لیں۔اگر اس رمئی تک نہ تو وہ اپنی رقوم کو ادا کریں گے اور نہ دفتر سے مزید مہلت حاصل کریں گے تو ان کے نام رجسٹر میں سے کاٹ دیئے جائیں گے اور سمجھا جائے گا کہ اُنہوں نے صرف جھوٹے فخر اور جھوٹی عزت کو حاصل کرنا چاہا تھا۔ان کا منشا اللہ تعالیٰ کے دین کے لئے قربانی کرنے کا نہیں تھا۔اس کے بعد میں نئے سال کی تحریک کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔میں نے پہلے بھی یہ کہا ہوا ہے اور اب پھر کہتا ہوں کہ وہ لوگ جو قریب عرصہ میں برسر روزگار ہوئے ہوں یا انہیں کوئی اور کام ملا ہو جس سے وہ روپیہ کمانے لگ گئے ہوں وہ اب بھی تحریک جدید میں شامل ہو سکتے ہیں۔اسی طرح وہ جن کی اب پوزیشن بڑھ گئی ہے اور پہلے سے انہیں اللہ تعالیٰ نے زیادہ وسعت عطا فرما دی ہے وہ بھی اگر پہلے شامل نہ تھے تو اب تحریک جدید میں شامل ہو سکتے ہیں اور انہیں چاہئے کہ جب کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کی وسعت دی ہے تو وہ تحریک جدید کے ثواب سے محروم نہ رہیں۔ایک دوست نے سوال کیا ہے اور وہ میرے نزدیک نہایت ہی معقول ہے کہ میں نے تحریک جدید کے پہلے تین سالوں میں اپنی طاقت اور ہمت سے بہت زیادہ حصہ لیا حتی کہ میرے پاس جس قدر اندوختہ تھا وہ میں نے دے دیا مگر اب میری حیثیت ایسی نہیں کہ میں دوسرے سالوں میں بھی پہلے معیار کو قائم رکھ سکوں مگر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ میں ادنیٰ ہو جاتا ہوں اور وہ جنہوں نے ابتدائے تحریک سے بہت معمولی چندہ دے کر شمولیت اختیار کی تھی اور پھر اُس پر تھوڑا تھوڑا اضافہ کرتے رہے وہ سابقون میں شامل ہو جاتے ہیں۔یہ اعتراض میرے نزدیک بہت معقول ہے اور میں جانتا ہوں کہ بعض لوگ ایسے ہیں جنہوں نے شروع سے چندہ کم لکھوایا اور بعض ایسے ہیں جنہوں نے پہلے تین سالوں میں بہت زیادہ چندہ لکھوا دیا اور اب ان کے لئے یہ مشکل ہے کہ وہ اپنے معیار کو آئندہ سالوں میں قائم نہیں رکھ سکتے۔مثلاً ایک شخص کی پچاس ساٹھ روپیہ تنخواہ ہے وہ پہلے سال میں لکھوا دیتا ہے، دوسرے سال پچپیں، تیسرے سال تھیں اور اسی طرح ہر سال تھوڑا تھوڑا اضافہ کرتا چلا جاتا ہے وہ تو اپنے طریق کو آئندہ بھی جاری رکھ سکتا ہے لیکن بعض ایسے ہیں کہ ان کی تنخواہ تو مثلاً پچاس روپیہ تھی مگر جب اُنہوں نے