خطبات محمود (جلد 20) — Page 588
خطبات محمود ۵۸۸ سال ۱۹۳۹ء اور خدا تعالیٰ کا مقرب بنانے کے لئے جن مجاہدات کی ضرورت ہے ان کی طرف جماعت کو متوجہ کرنا ضروری ہے۔پس میں پھر جماعت کو اس طرف توجہ دلا دیتا ہوں خصوصاً اُن لوگوں کو جو نا دہند ہیں اور جن کی طرف تحریک جدید کا کئی کئی سال کا بقایا ہے کہ جب اُن کے لئے راستہ کھلا تھا کہ وہ اس میں شامل نہ ہوں تو وہ کیوں شامل ہوئے اور جب اُن کے لئے اب بھی اس بات کا راستہ کھلا ہی ہے کہ وہ اپنا نام کٹوالیں تو وہ اپنا نام کیوں نہیں کٹواتے ؟ ہمیں اس تحریک کے متعلق یہ نظر آتا ہے کہ اس میں حصہ لینے والوں کی تعداد پانچ ہزار کی کے اردگرد چکر کھا رہی ہے۔گویا اس میں حصہ لینے والوں کی تعداد اتنی ہی ہے جتنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کشف میں بیان ہوئی۔اس کے علاوہ بیسیوں رویا وکشوف اور الہامات اس تحریک کے بابرکت ہونے کے متعلق لوگوں کو ہوئے۔بعض کو رویا میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بتایا کہ یہ تحریک بابرکت ہے، بعض کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتایا کہ یہ تحریک بابرکت ہے اور بعض کو الہامات ہوئے کہ یہ تحریک بہت مبارک ہے۔غرض یہ ایک ایسی تحریک ہے جس کے بابرکت ہونے کے متعلق بیسیوں رویا وکشوف اور الہامات کی شہادت موجود ہے۔اس کے علاوہ تحریک جدید کے واقعات اس کشف سے بہت حد تک ملتے جلتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیکھا اور جس میں بتایا گیا تھا کہ آپ کو پانچ ہزار سپاہی دیا جائے گا چنانچہ شروع سے اس کی تعداد پانچ ہزار کے گرد چکر کھا رہی ہے مگر رویا سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ تعداد بھی ذرا مشکل سے پوری ہو گی۔چنانچہ رویا یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک شخص سے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے۔اس نے کہا ایک لاکھ تو نہیں مگر پانچ ہزار سپاہی دیا جائے گا۔تب آپ فرماتے ہیں میں نے کہا گو پانچ ہزار تھوڑے ہیں پر اگر خدا چاہے تو تھوڑے بہتوں پر فتح پاسکتے ہیں۔نا پس اس رؤیا کا جو انداز ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانچ ہزار تعداد پوری تو ہو گی مگر ذرا مشکل سے اور وہ مشکل ہمیں اب نظر آنے لگ گئی ہے کہ کئی ناد ہند ہیں جنہوں نے کئی کئی سال سے چندہ دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے مگر ابھی تک اُنہوں نے اپنے وعدے کو پورا نہیں کیا۔اگر یہ نادہند