خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 568 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 568

خطبات محمود ۵۶۸ سال ۱۹۳۹ء رکھنا چاہئے۔جلوس وغیرہ اسلام میں ثابت نہیں ہیں یعنی ایسے جلوس جیسے آجکل نکلتے ہیں۔یہ صحیح ہے کہ دوسرے شہروں میں جو جلوس وغیرہ نکلتے ہیں ان کے مقابلہ میں قادیان کے جلوس اسلامی جلوس کے سب سے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر پھر بھی مجھ پر یہ اثر ہے کہ قادیان میں جو جلوس نکلتے ہیں وہ بھی خالص اسلامی جلوسوں کے مشابہ نہیں ہیں۔اسلام کے زمانہ میں ہمیں یہ تو کی نظر آتا ہے تاریخ سے ثابت ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کے عمل سے یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ جماعت مسلمین جمع ہو کر خاص بازاروں میں سے گزر رہی ہے اور جب لوگ ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں تو کسی تکلیف کے بغیر ایک دوسرے کو بلند آواز سے سلام کہتے ہیں یا تکبیر و تحمید کرتے ہیں مگر یہ کہ ایک شخص شعر پڑھتا ہے اور دوسرے اس کے پیچھے لچکتے جاتے ہیں اور وہی شعر پڑھتے ہیں یہ کہیں سے ثابت نہیں۔میں تو خیال کیا کرتا ہوں کہ اگر کوئی مجھے ایسا کرنے کے لئے کہے اگر تو وہ حاکم مذہب ہو جس کی اطاعت ضروری ہے تو اور کی بات ہے ورنہ میں کبھی ایسا نہ کر سکوں۔میری فطرت اسے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔مجھے تو یہ جلوس دیکھ کر بچپن کا وہ زمانہ یاد آ جاتا ہے جب بچے اکٹھے ہو کر کھیلا کرتے تھے اور ایک دوسرے کی کمر کو پکڑ کر کہتے تھے کہ ہم بکرا لینے آئے ہیں۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ اس سے منع کیا ہے مگر پھر بھی بعض لوگ اسی طرح کرنا شروع کر دیتے ہیں حالانکہ اگر سنجیدگی سے کام لیا جائے تو ی ایسے موقع پر دل میں ذکر الہی کرنا چاہئے۔ہاں جیسا کہ سنت ہے جب کوئی دوسری جماعت سامنے آتی ہوئی نظر آئے تو تکبیر اور تسبیح وتحمید کرنی چاہئے۔اسلام بیشک شعر پڑھنے اور سننے کی اجازت دیتا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ثابت ہے مگر اس قسم کا کورس میں نے اسلام میں کہیں نہیں دیکھا ( کورس سے مشابہ ایک صورت اسلام میں ہے اور وہ امام کے پیچھے آمین کہنے کی ہے۔اسی طرح بعض آیات قرآنیہ کے جواب میں بعض فقرات کہے جاتے ہی لیکن یہ اوّل تو نثر میں ہوتا ہے دوسرے نماز میں اور خاص سنجیدگی کے ساتھ ہوتا بازاروں میں اس طرح کرتے پھرنے کی مثال پر اور شعر پڑھ پڑھ کر ایسا کرنے کے متعلق میں اس وقت بات کر رہا ہوں اور اس کی مثال مجھے نہیں ملی۔) حالانکہ جہاں تک کوشش ہوسکتی ہے میں نے اسلامی تاریخ کا مطالعہ بہت لمبا اور گہرا کیا ہے۔اگر کسی اور کو اس کی کوئی مثال معلوم ہو تو کی ہے۔