خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 543 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 543

خطبات محمود ۵۴۳ سال ۱۹۳۹ء اُس نے کہا کہ میں نے تم سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سوال کیا ہے اور تم میرے خاوند کی خبر سُنا رہے ہو۔اُس نے پھر کہا کہ تمہارا باپ بھی مارا گیا ہے۔مگر اُس عورت نے کہا کہ میں تمہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھتی ہوں اور تم باپ کا حال بتا رہے ہو۔اُس سوار نے کہا کہ تمہارے دونوں بھائی بھی مارے گئے مگر اُس عورت نے پھر یہی کہا کہ تم میرے سوال کا جواب جلد دو۔میں رشتہ داروں کے متعلق نہیں پوچھتی۔میں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھتی ہوں۔اس صحابی کا دل چونکہ مطمئن تھا اور وہ جانتا تھا کہ آپ بخیریت ہیں اس لئے اس کے نزدیک اس عورت کے لئے سب سے اہم سوال یہی تھا کہ اس کے متعلقین کی موت سے اسے آگاہ کیا جائے مگر اس عورت کے نزدیک سب سے پیاری چیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی۔اس لئے اس نے اسے جھڑک کر کہا کہ تم میرے سوال کا جواب دو اس پر اُس نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو خیریت سے ہیں۔یہ سُن کر عورت نے کہا کہ جب آپ زندہ ہیں تو پھر مجھے کوئی غم نہیں خواہ کوئی مارا جائے کے اور ظاہر ہے کہ اس مثال کے سامنے اس بڑھیا کی مثال کی کوئی حقیقت نہیں جس کے متعلق خود نامہ نگار کو اعتراف ہے کہ اس کا دل غم کے بوجھ سے دبا ہوا معلوم ہوتا تھا۔وہ دل میں رو ر ہی تھی مگر یہ صحابیہ تو دل میں بھی خوش تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ ہیں۔اس عورت کے دل پر تو صدمہ ضرور تھا گو وہ اسے کی ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی مگر اس کے تو دل پر بھی کوئی صدمہ نہ تھا اور یہ ایسی شاندار مثال ہے کہ دُنیا کی تاریخ اس کی کوئی نظیر پیش نہیں کر سکتی اور بتاؤ اگر ایسے لوگوں کے متعلق یہ نہ فرمایا جاتا کہ مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَہ تو دُنیا میں اور کونسی قوم تھی جس کے متعلق یہ الفاظ کہے جاتے۔میں جب اس عورت کا واقعہ پڑھتا ہوں تو میرا دل اس کے متعلق ادب اور احترام سے بھر جاتا ہے اور میرا دل چاہتا ہے کہ میں اس مقدس عورت کے دامن کو چھوؤں اور پھر اپنے ہاتھ آنکھوں سے لگالوں کہ اس نے میرے محبوب کے لئے اپنی محبت کی ایک بے مثل یادگار چھوڑی ہے۔پھر اسی اُحد کا ایک واقعہ ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر مشہور ہوئی تو اُس وقت حضرت انس بن نضر کھجوریں کھا رہے تھے انہیں اطمینان تھا کہ فتح ہو چکی ہے اس لئے میدان سے پرے چلے گئے تھے اور چونکہ بھوکے تھے کچھ کھجور میں جو اُن کے پاس تھیں ان کے