خطبات محمود (جلد 20) — Page 488
خطبات محمود ۴۸۸ سال ۱۹۳۹ء ان دنوں عیسائیوں سے لڑائی ہو رہی تھی اشارہ کر کے کہا اُس کا علاج صرف وہاں ہے یعنی اب کی اس ذلت کا علاج ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ اس جہاد میں شامل ہو کر اپنی جانیں دے دو پھر خود بخو دلوگ ان باتوں کو بھول جائیں گے۔چنانچہ اسی وقت وہ لوگ وہاں سے اُٹھے اور اپنے کی اونٹوں پر سوار ہو کر شام کی طرف روانہ ہو گئے۔وہ سات نوجوان تھے جو اس ذلت کو دور کرنے کے لئے جہاد میں شامل ہوئے اور تاریخ بتاتی ہے کہ پھر ان نوجوانوں میں سے ایک نوجوان بھی کی زندہ مکہ کی طرف واپس نہیں آیا۔سب اسی جنگ میں شہید ہو گئے۔۲۳ اب دیکھو گیا تو انہیں وہ عزت حاصل تھی کہ وہ مکہ میں کھڑے ہو کر جب کہہ دیتے کہ ہم فلاں مسلمان کو پناہ دیتے ہیں تو کسی شخص کو یہ جرأت نہیں ہوتی تھی کہ اس مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچا سکے یہاں تک کہ ان کا ایک سردار رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک کو ہاتھ لگا تا کج ہے اور سوائے حضرت ابوبکر کے اور کوئی شخص ایسا ثابت نہیں ہوتا جو اُن کا زیر بار احسان نہ ہو اور جو جرات اور دلیری سے اُسے روک سکے اور گجا یہ زمانہ کہ ادنی ادنی غلام جب آتے تو ان رؤسا اور سردارانِ قریش کے لڑکوں سے حضرت عمر فر ماتے کہ پیچھے ہٹ جاؤ یہاں تک کہ ہوتے ย ہوتے وہ جوتیوں میں جا پہنچے۔حالانکہ ان آنے والے صحابہ میں سے اکثر وہ تھے جنہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس سے روپیہ دے کر آزاد کروایا ہوا تھا اور ایک کی تو کی والدہ کی شرمگاہ میں کفار نے نیزہ مار کر مار ڈالا تھا۔۲۴ے ان ادنی اور ذلیل سمجھے جانے والے لوگوں کو ایک ایک کر کے آگے بٹھایا گیا اور جب اُن میں سے کوئی حضرت عمرؓ کی مجلس میں آتا تو کی آپ نو جوانوں سے فرماتے پیچھے ہٹ جاؤ پھر کوئی اور صحابی آتا تو آپ فرماتے اور زیادہ پیچھے ہٹ جاؤ پھر کوئی اور صحابی آتا تو آپ پھر فرماتے پیچھے ہٹ جاؤ۔یہ وہ عذاب تھا جو پیشگوئی کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ سے نکالے جانے کے بعد اہلِ مکہ پر آیا۔چنانچہ جب اُنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دیا اور یہ تصور کر کے خوش ہوئے کہ ہم جیت گئے تو خدا نے کہا تم نادان ہو۔تمہاری فتح نہیں ہوئی بلکہ فتح ہمارے رسول کی ہوئی ہے اور اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ہمارا رسول دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ مکہ پر حملہ آور ہو اور اسے ہمیشہ کے لئے فتح کرے اور یہی وہ خبر تھی جو دَ مَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيْهِمْ