خطبات محمود (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 609

خطبات محمود (جلد 20) — Page 469

خطبات محمود ۴۶۹ سال ۱۹۳۹ء حملہ کرتا ہے اسی طرح وہ دونوں نوجوان تلوار میں کھینچ کر آگے بڑھے اور آنا فانا دشمنوں کی صفوں کو چیرتے ہوئے اُس مقام پر پہنچ گئے جہاں ابو جہل کھڑا تھا اور جاتے ہی اُس پر حملہ کر دیا ہے ج کفار اس اچانک حملہ سے کچھ گھبرا سے گئے اور وہ پوری طرح مقابلہ نہ کر سکے۔عکرمہ جو ابوجہل کے بیٹے تھے اُنہوں نے ایک نوجوان پر تلوار سے وار کیا جس سے اُس کا آدھا ہا تھ کٹ کر لٹک گیا اس نے فورا ہاتھ کے اُس ٹکڑہ کو تو ڑ کر پرے پھینک دیا اور آگے بڑھ کر دونوں نے ابو جہل کو زخمی کر کے زمین پر گرا دیا مگر اُس کی موت ابھی نہیں آئی تھی یہ دونوں اُسے سخت زخمی کر کے کی واپس آ گئے۔جب کفار کے لشکر کو شکست ہو گئی تو حضرت عبداللہ بن مسعودؓ جو مہاجر تھے اور کفار سے اچھی طرح واقف تھے اُنہوں نے میدان جنگ کا یہ دیکھنے کے لئے چکر کاٹا کہ آج کفار پر کیا بنی ہے؟ وہ کہتے ہیں میں مردوں اور زخمیوں کو دیکھتا جا رہا تھا کہ ایک جگہ میں نے دیکھا ابو جہل زخموں کی شدت کی وجہ سے کراہ رہا ہے۔میں نے اُس سے کہاسنا ؤ کیا حال ہے؟ وہ کہنے لگا سب نے کرنا ہے میں بھی اب مر رہا ہوں مگر مجھے بڑا دکھ یہ ہے کہ مدینہ کے دو چھوکروں نے کی مجھے مارا۔یہ وہی آج اتنا بعذاب الیم کی دُعا کا ظہور تھا کہ مرتے وقت اُس نے کہا کہ مجھے بڑا دکھ یہ ہے کہ مدینہ کے دو چھوکروں نے مجھے مارا۔اگر مکہ کے اچھے خاندان کا کوئی مشہور سپاہی مجھے مارتا تو ایسا دُ کھ نہ ہوتا۔خیر عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں میں نے اس سے کہا اچھا اب بتاؤ کیا تمہارے دل میں کوئی خواہش تو نہیں؟ وہ کہنے لگا مجھے اس وقت سخت تکلیف ہے میری خواہش یہ ہے کہ تم مجھے قتل کرو مگر دیکھنا میری گردن ذرا لمبی کاٹنا کیونکہ تم جانتے ہومیں مکہ کا سردار ہوں اور سردار کی گردن ہمیشہ لمبی کائی جاتی ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں میں نے اُسے کہا اب یہ تیری آخری حسرت بھی پوری نہیں ہوگی اور میں تیری گردن سر کے قریب سے کاٹونگا چنانچہ اُنہوں نے اُس کی گردن سر کے قریب سے کائی۔اب دیکھو ابو جہل نے جو عذاب مانگا تھا وہ ابو جہل اور اُس کی قوم دونوں پر نازل ہوا اور نہ صرف ایک بلکہ دونوں عذاب نازل ہوئے مگر یہ عذاب جب نازل ہوا اُس وقت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُن میں موجود تھے بلکہ اُس جگہ موجود تھے جہاں یہ عذاب اُترا اور اُس گروہ کے قریب کھڑے تھے جو اُس عذاب کا نشانہ بنا۔پھر مَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَ انْتَ فِيهِمْ